ابنِ صفی

نئے افق

ابنِ صفی کے ناول اب مکمل سیٹ کی صورت میں سفید کاغز اور کمپیوٹر کمپوزنگ میں چھپ رہے ہیں تو میں ان سے اپنی لائبریری مکمل کر رہا تھا۔ اب ان ناولوں پر لکھا ہے "اسرار پبلی کیشنز، الکریم مارکیٹ، مین کبیر اسٹریٹ، لاہور" یہ پتہ دیا گیا ہے۔ ڈائجسٹ کی آپ نے اچھی ٹپ دی 'نئے افق' انِ صفی نے جاری کیا تھا۔
 

رضوان

محفلین
شارق صاحب
بجا ارشاد فرمایا آپ نے۔
لیکن اردو میں جاسوسی ادب کے لیے ابن صفی سے بھی پہلےایک نام اور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے خوب اچھی طرح یادہےکہ میں نے اردو کی پہلی غیرنصابی کتاب ابن صفی کی پڑہی تھی پاگلوں کی انجمن(ابھی تک اثرباقی ہے؟)
کیا کوئی ایسا مجاھد ہے جو پی آی بی کالونی کی مشہور ھستیوں پر کچھ لکھ سکے؟ ابن صفی۔مشتاق یوسفی۔شاھد دہلوی وغیرہ
 
نام تو بتائیں

>> لیکن اردو میں جاسوسی ادب کے لیے ابن صفی سے بھی پہلےایک نام اور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نام تو بتائیں ؟؟؟

میرے خیال میں اوریجنل رائٹر شاید کوئی نہیں۔ کچھ لوگوں نے انگریزی جاسوسی ناولوں کے ترجمے کیے تھے اردو میں۔ بہرحال میری اس حوالے سے معلومات قلیل ہیں۔
 

رضوان

محفلین
شارق صاحب نام ھی توزہن سے محو ھو گیا ھے وہ صاحب بریصغیر میں اول اول جاسوسی ترجمہ اور پھر طبعزاد کے بانیوں میں ہیں یہ صرف ریکارڈ کیدرستگی کےلیے ہے ورنہ ابن صفی نے جو اوج اردو کے جاسوسی ادب کو بخشاہے اس کا زمانہ شاھد ھے
 

رضوان

محفلین
نہیں نبیل صاحب
لگتا ھے سہیلی بوجھ پہیلی شروع ھو گئی دو دن کاوقت دیجئے سارا تجسس دور ھوجائیگا
 
وضاحت

ابنِ صفی نے اپنے ایک مضمون میں وضاحت کی ہے:

"اس سے قبل اردو میں صرف منشی تیرتھ رام فیروز پوری کے تراجم پائے جاتے تھے یا دو تین ناول ظفر عمر کے۔ وہ بھی ان کے اپنے نہیں تھے بلکہ مارس لیبلانک کے چند ناولوں کو مشرب بہ اسلام کر ڈالا گیا تھا۔"

کیا آپ کا مطلب انہی لکھاریوں میں سے کسی کا تھا؟
 

رضوان

محفلین
بلکل منشی تیرتھ رام فیروز پوری آپ نے صحیح ڈھونڈھ نکالا
ساقی کا شاھد دھلوی نمبر کچھ دنوں پھلے میں دیکھ رھاتھا اسمیں ذکر پڑھا تھا اسی وجہ سے کھٹکا ھوا
 
سی مون کی واپسی سے باطل قیامت زیادہ طویل تھا مگر یہ بھی 1400 صفحوں کے لگ بھگ تھا۔ میں جس ناول کی بات کررہا ہوں وہ تقریباً 2000 صفحات پر مشتمل تھا۔
 
میری معلومات کے مطابق بھی ابنِ صفی ہی نے سب سے پہلے طبع زاد اردو جاسوسی کہانیاں لکھیں۔ ان سے پہلے صرف تراجم شائع ہوتے تھے اور تیرتھ رام فیروز پوری مترجم ہی تھے۔
بہر حال آپ دوستوں ‌کا شکریہ کہ ایک زبردست شخصیت پر گفتگو شروع کر کے بھولی بسری کہانیاں یاد دلا دیں ۔ میں‌نے ابنِ‌صفی کا پہلا ناول ابنِ صفی میگزین میں“ لاشوں کا بازار“ ان کے انتقال کے تقریبا دس سال بعد پڑھا تھا۔‌اگلے چار پانچ سال میں ان کے دیگر ناول اور ان کے متعلق لکھا ہوا کافی کچھ پڑھ ڈالا۔
اس کےبعد میں نےمحض نام کی وجہ دوسرے لوگوں کی لکھی ہوئی عمران سیریز کے کئی ایک ناول پڑھے مگر وہ بات کہاں۔۔۔!
نئے افق میں‌‌ان کی شاعری کے کچھ نمونے بھی پڑھے تھے ۔ ان کی ایک نظم “ نوحہ“ خاص طور پر مجھے بہت پسند ہے۔ شاعری کی کتاب “ متاعِ قلب و نظر “ کا چرچا میں‌ نے نئے افق ہی میں پڑھا تھا مگر اس کے بعد کہیں ذکر نہیں سنا۔! کسی دوست کو اس بارے میں معلومات ہوں تو ضرور مطلع کریں ۔‌‌
 

قیصرانی

لائبریرین
دکھ

شارق مستقیم نے کہا:
ویسے ابنِ صفی پربھی اپنے کیریئر کے دوران ایسا ہی ایک بیماری کا حملہ ہوا تھا جس میں وہ لکھنے سے بالکل عاجز ہوکر رہ گئے تھے۔ لیکن وہ تین سال بعد پھر منظرِ عام پر ایک ہٹ ناول 'ڈیڑھ متوالے' کے ہمراہ آئے اور اس کے بعد بھی خوب لکھا۔

شیزوفرینیا کا حملہ ہوا تھا۔ لیکن دو سال بعد ابنٍ صفی کی صحت بحال ہو گئی تھی۔ سنا ہے کہ اس کے بعد آئی ایس آئی کی تربیت بھی کرتے رہے تھے (بحوالہ وکی پیڈیا)

قیصرانی
 

امجد

محفلین
ابن صفی

میرے خیال میں ابن صفی آج کل کے ان قلمکاروں کی طرح محض جاسوسی کہانیاں نہیں لکھتے تھے بلکہ انہوں اس موضوع کو ایسا مقام عطا کیا تھا کہ ناقدین انہیں "سری ادب" کا تخلیق کار تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے تھے-
 

قیصرانی

لائبریرین
میرے خیال میں ابن صفی آج کل کے ان قلمکاروں کی طرح محض جاسوسی کہانیاں نہیں لکھتے تھے بلکہ انہوں اس موضوع کو ایسا مقام عطا کیا تھا کہ ناقدین انہیں "سری ادب" کا تخلیق کار تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے تھے-

ایک درستگی کر لیں۔ اردو زبان میں سری ادب کا تخلیق کار
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت شکریہ قیصرانی صاحب - مجھے "ڈاکٹر دعاگو" بہت پسند ہے - ہوسکے تو اسکو برقیانے کا کام کرنا چاہیے - لاہور میں ہال روڈ پر ایک دکان تھی شائد بجلی کے سامان کی - وہی دوکاندار ابنِ صفی کے تمام ناول چھپواتا تھا کیونکہ جس مکتبہ کے تحت ابن صفی کے ناول چھپتے تھے اس دکان کو اس نے خرید لیا تھا اور وہ ان ناول کو بھی چھپواتا تھا - اب بہت عرصہ ہوگیا میں اس دوکان پر نہیں گیا - کبھی موقع لگا تو پتہ کروں گا کہ اب بھی وہاں پر ناول دستیاب ہیں یا نہیں -
 

قیصرانی

لائبریرین
بہت شکریہ قیصرانی صاحب - مجھے "ڈاکٹر دعاگو" بہت پسند ہے - ہوسکے تو اسکو برقیانے کا کام کرنا چاہیے - لاہور میں ہال روڈ پر ایک دکان تھی شائد بجلی کے سامان کی - وہی دوکاندار ابنِ صفی کے تمام ناول چھپواتا تھا کیونکہ جس مکتبہ کے تحت ابن صفی کے ناول چھپتے تھے اس دکان کو اس نے خرید لیا تھا اور وہ ان ناول کو بھی چھپواتا تھا - اب بہت عرصہ ہوگیا میں اس دوکان پر نہیں گیا - کبھی موقع لگا تو پتہ کروں گا کہ اب بھی وہاں پر ناول دستیاب ہیں یا نہیں -

ہممم۔ اگر آپ ساتھ دیں تو ابھی کام شروع کر دیتے ہیں :)
 
Top