آگ چناروں کے درمیاں - نعیم صدیقی

الف نظامی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 21, 2007

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,802
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    ٹیلوں کے آس پاس وہ غاروں کے درمیاں
    بھڑکی ہوئی ہے آگ چناروں کے درمیاں​

    راہِ ظفر گذرتی ہے لاشوں کے بیچ بیچ
    جیسے یہ کہکشاں ہو ستاروں کے درمیاں​

    ہر تیزِ زخم دل میں گرفتار ہوگیا
    صیاد آگھرا ہے شکاروں کے درمیاں​

    دل ہے عجیب چیز نزاکت کے باوجود
    رقصاں ہے خنجروں کی قطاروں کے درمیاں​

    شاداب جوئے خونِ شہادت سے آرزو
    ہے چشمہِ حیات مزاروں کے درمیاں​

    سرمایہ تبسمِ شیریں ہے زہرِ درد
    رنگین پھول کھلتے ہیں خاروں کے درمیاں​

    اس سے بڑی نہیں کوئی عشرتِ جہاد
    مقصد کی رہ میں موت ہو یاروں کے درمیاں​

    منزل پکارتی رہی اک عمر سے مگر
    ہم کھو گئے تھے راہگزاروں کے درمیاں​

    کیا جانیں کیا ہے لطف تپیدن بہ کارزار
    آرام سے جو بیٹھے ہیں پیاروں کے درمیاں​

    محصور کاشمیر کے ہیں زعفران زار
    شعلوں کے درمیان ، شراروں کے درمیاں​

    تم ڈھونڈتے ھو گنبد و محراب میں جسے​

    شاید ملے وہ خون کے دھاروں کے درمیاں
    از نعیم صدیقی​
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,802
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
  3. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,579
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    کیا خوب کہا ہے ۔ ما شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    549
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     

اس صفحے کی تشہیر