آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟

شاہد شاہنواز

لائبریرین
عمران سیریز کے لکھاری کم و بیش 200 سے 250 ہوں گے، اگر میں غلط نہیں ہوں۔ یہ مجھے اس وقت پتہ چلا جب میں نے سوچا کہ عمران سیریز کا ایک ناول میں بھی لکھ دیتا ہوں۔ سوچا پہلے پتہ تو کروں کہ ابنِ صفی کے بعد اس پر کتنا کام ہوا؟ تو پتہ چلا کہ اتنا کام ہوا ہے ۔۔۔ اتنا کام ہوا ہے ۔۔۔ اتنا کام ہوا ہے ۔۔۔ کہ اللہ کی پناہ ۔۔۔
اس کے بعد میں نے بھی توبہ کر لی، کہ کچھ اور سوچتے ہیں۔ کچھ اور لکھ لیں گے۔ عمران سیریز نہیں۔۔۔ کیونکہ اس کی جتنی کہانیاں لکھی جاچکی ہیں، اتنی تو پڑھتے پڑھتے ہی ہماری باقی ماندہ عمر کٹ جائے گی۔۔۔
یہ فیصلہ کب ہوگا کہ ہمارا انداز دیگر منصفین سے جدا یا بہتر کیسے ہے؟
 

جاسمن

لائبریرین
عمران سیریز کے لکھاری کم و بیش 200 سے 250 ہوں گے، اگر میں غلط نہیں ہوں۔ یہ مجھے اس وقت پتہ چلا جب میں نے سوچا کہ عمران سیریز کا ایک ناول میں بھی لکھ دیتا ہوں۔ سوچا پہلے پتہ تو کروں کہ ابنِ صفی کے بعد اس پر کتنا کام ہوا؟ تو پتہ چلا کہ اتنا کام ہوا ہے ۔۔۔ اتنا کام ہوا ہے ۔۔۔ اتنا کام ہوا ہے ۔۔۔ کہ اللہ کی پناہ ۔۔۔
اس کے بعد میں نے بھی توبہ کر لی، کہ کچھ اور سوچتے ہیں۔ کچھ اور لکھ لیں گے۔ عمران سیریز نہیں۔۔۔ کیونکہ اس کی جتنی کہانیاں لکھی جاچکی ہیں، اتنی تو پڑھتے پڑھتے ہی ہماری باقی ماندہ عمر کٹ جائے گی۔۔۔
یہ فیصلہ کب ہوگا کہ ہمارا انداز دیگر منصفین سے جدا یا بہتر کیسے ہے؟
نئے کردار تخلیق کیے جانے چاہئیں۔ انھیں لے کے سیریز لکھی جا سکتی ہے۔
عمران سیریز لکھنی ہے تو بھی وہ پچھلے ادوار کی تھی، نئے دور میں اس قدر تبدیلیاں آ چکی ہیں کہ کہانیاں یکسر بدل جائیں گی۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
نئے کردار تخلیق کیے جانے چاہئیں۔ انھیں لے کے سیریز لکھی جا سکتی ہے۔
عمران سیریز لکھنی ہے تو بھی وہ پچھلے ادوار کی تھی، نئے دور میں اس قدر تبدیلیاں آ چکی ہیں کہ کہانیاں یکسر بدل جائیں گی۔
عمران سیریز پر لکھنے کا ارادہ تو چھوڑ دیا۔۔۔ آج کل ایک اور آئیڈیا پر غور جاری ہے ۔۔۔ کاشف زبیر کی جلیل سیریز ۔۔۔ اس پر میرے خیال میں جواں سال کاشف زبیر کے انتقال کے بعد کسی اور مصنف نے قلم نہیں اٹھایا، اس سے قبل کچھ تکنیکی چیزیں سیکھنی اور سمجھنی ہیں۔ عمرا ن سیریز میں اچھا خاصا کام ہوچکا اور اگر میں اس طرف نہ بھی بڑھوں تو مزید کام بھی جاری و ساری رہے گا۔
 

جاسمن

لائبریرین
عمران سیریز پر لکھنے کا ارادہ تو چھوڑ دیا۔۔۔ آج کل ایک اور آئیڈیا پر غور جاری ہے ۔۔۔ کاشف زبیر کی جلیل سیریز ۔۔۔ اس پر میرے خیال میں جواں سال کاشف زبیر کے انتقال کے بعد کسی اور مصنف نے قلم نہیں اٹھایا، اس سے قبل کچھ تکنیکی چیزیں سیکھنی اور سمجھنی ہیں۔ عمرا ن سیریز میں اچھا خاصا کام ہوچکا اور اگر میں اس طرف نہ بھی بڑھوں تو مزید کام بھی جاری و ساری رہے گا۔
کاشف زبیر کی تحریروں میں کچھ کچھ احمد اقبال کی جھلک ہے۔ احمد اقبال کہاں غائب ہو گئے؟ حیات ہیں؟
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
کاشف زبیر کی تحریروں میں کچھ کچھ احمد اقبال کی جھلک ہے۔ احمد اقبال کہاں غائب ہو گئے؟ حیات ہیں؟
جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ میں کہانیاں لکھنے کے بعد لگتا ہے کہ احمد اقبال نے ہم سب پر کالم نگاری شروع کردی ہے۔۔۔ گزشتہ ماہ تک تو ان کی تحریریں اس لنک پر شائع ہوتی نظر آرہی تھیں۔
کاشف زبیر نے جو اندازِ تحریر اپنایا، وہ مختلف تحریروں میں مختلف نظر آتا ہے۔ احمد اقبال کا اسلوب زیادہ تر کہانیوں میں ایک جیسا رہا ہے۔ شکاری اور مداری سمیت دیگر تحریریں نظر سے گزری ہیں۔ ان مصنفین کا ایک دوسرے کو بھی زیادہ تر علم نہیں ہوتا۔ احمد اقبال نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ وہ کاشف زبیر کے ہاں جایا کرتے تھے اور متعدد مرتبہ کاشف زبیر کے اہلِ خانہ اور وہ خود بھی ان کے ہاں گئے، تاہم محی الدین نواب کسی سے ملنے ملانے کے قائل نہیں تھے۔۔۔
 

جاسمن

لائبریرین
جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ میں کہانیاں لکھنے کے بعد لگتا ہے کہ احمد اقبال نے ہم سب پر کالم نگاری شروع کردی ہے۔۔۔ گزشتہ ماہ تک تو ان کی تحریریں اس لنک پر شائع ہوتی نظر آرہی تھیں۔
کاشف زبیر نے جو اندازِ تحریر اپنایا، وہ مختلف تحریروں میں مختلف نظر آتا ہے۔ احمد اقبال کا اسلوب زیادہ تر کہانیوں میں ایک جیسا رہا ہے۔ شکاری اور مداری سمیت دیگر تحریریں نظر سے گزری ہیں۔ ان مصنفین کا ایک دوسرے کو بھی زیادہ تر علم نہیں ہوتا۔ احمد اقبال نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ وہ کاشف زبیر کے ہاں جایا کرتے تھے اور متعدد مرتبہ کاشف زبیر کے اہلِ خانہ اور وہ خود بھی ان کے ہاں گئے، تاہم محی الدین نواب کسی سے ملنے ملانے کے قائل نہیں تھے۔۔۔
اصل میں کاشف زبیر کی مزاحیہ تحریروں کی بات کرنا مقصود تھا۔ احمد اقبال کی اخبار کے دفتر، ایڈیٹر، کالم نگار ، وغیرہ کے جو کردار تھے، باقی اب یاد نہیں آ رہے۔۔۔ ملتے جلتے انداز میں کاشف زبیر نے بھی اختیار کیے۔
 

جاسمن

لائبریرین
جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ میں کہانیاں لکھنے کے بعد لگتا ہے کہ احمد اقبال نے ہم سب پر کالم نگاری شروع کردی ہے۔۔۔ گزشتہ ماہ تک تو ان کی تحریریں اس لنک پر شائع ہوتی نظر آرہی تھیں۔
کاشف زبیر نے جو اندازِ تحریر اپنایا، وہ مختلف تحریروں میں مختلف نظر آتا ہے۔ احمد اقبال کا اسلوب زیادہ تر کہانیوں میں ایک جیسا رہا ہے۔ شکاری اور مداری سمیت دیگر تحریریں نظر سے گزری ہیں۔ ان مصنفین کا ایک دوسرے کو بھی زیادہ تر علم نہیں ہوتا۔ احمد اقبال نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ وہ کاشف زبیر کے ہاں جایا کرتے تھے اور متعدد مرتبہ کاشف زبیر کے اہلِ خانہ اور وہ خود بھی ان کے ہاں گئے، تاہم محی الدین نواب کسی سے ملنے ملانے کے قائل نہیں تھے۔۔۔
محی الدین نواب اور علیم الحق حقی پڑوسی رہے ہیں۔ لیکن زیادہ آنا جانا نہیں رہا۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
اصل میں کاشف زبیر کی مزاحیہ تحریروں کی بات کرنا مقصود تھا۔ احمد اقبال کی اخبار کے دفتر، ایڈیٹر، کالم نگار ، وغیرہ کے جو کردار تھے، باقی اب یاد نہیں آ رہے۔۔۔ ملتے جلتے انداز میں کاشف زبیر نے بھی اختیار کیے۔
کاشف زبیر کی زندگی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ یہ بات بھی کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ وہ معذور تھے۔ بڑی مشکل زندگی گزاری اور ابھی بہت سی خوشیاں دیکھنی باقی تھیں کہ زندگی نے ساتھ چھوڑ دیا۔ شاید ان کو خود بھی احساس ہو، اسی لیے اتنا زیادہ کام بھی کیا۔ تحریریں دیکھ کر نہیں لگتا کہ ان کی زندگی مختصر تھی۔ کہانیاں پڑھتے پڑھتے بھی کافی سال نکل جائیں گے۔۔۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
محی الدین نواب اور علیم الحق حقی پڑوسی رہے ہیں۔ لیکن زیادہ آنا جانا نہیں رہا۔
محی الدین نواب نے دیوتا لکھی ۔۔۔ کہا کرتے تھے کوئی 100 صفحے پڑھ لے تو اسے چھوڑ نہیں پائے گا۔ میں نے سیکڑوں صفحات پڑھ ڈالے، لیکن چھوڑنی پڑی۔ لیکن اس میں لکھنے والے کا قصور نہیں تھا۔ آج بھی جہاں سے وہ کہانی پڑھو، آپ کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ دیوتا ہی کیا، محی الدین نواب کی تمام ہی کہانیاں دلچسپ رہیں۔ بہت سے لوگوں کو ان سے فحش نگاری کا شکوہ بھی رہا، لیکن ہر انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ وہ ناقدین کے کہنے پر اس سے ہٹنا گوارا نہیں کرتے تھے۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
ایک فیس بک پروفائل پر احمد اقبال کا، اگر وہ اصلی احمد اقبال ہوں تو، فرمانا یہ ہے کہ میں تقریبا"50 سال سےمیں کہانیاں لکھ رہا ہوں۔ موضوعاتی،قسط وار،مزاحیہ ۔شاعری کرتا ہوں۔ موسیقی، فلموں اور کرکٹ کا شوق ہے۔ یار باش آدمی ہوں۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
ہم سب پر شائع، احمد اقبال کے ایک مضمون میں جون ایلیا کا ذکر کچھ اس طرح ملتا ہے:
مجھے یاد ہے جب جون ایلیا مجبوراً گلشن گئے تو پہلے دن میں نے انہیں چھت پر گھٹنوں پر سر رکھے اداس دیکھا۔ گھر میں بجلی کا کنکشن نہیں تھا جو اگلے دن مل گیا۔ میں نے اداسی کا سبب پوچھا تو آہ بھری ”میاں ایک زندگی میں دو بار مہاجر جو ہوا ہوں“ ۔ وہ ریوالی سینما کا فلیٹ چھوڑ کر آئے تھے تو ان کا حلقہ احباب میلوں دور پرانے شہر میں رہ گیا تھا جہاں ان کی رسائی نہ تھی۔ نیا آباد ہونے والا گلشن ایک نیا شہر تھا۔ یونیورسٹی روڈ پر لائٹ تک نہ تھی۔ آبادی صرف بلاک ایک اور دو میں تھی۔ شراب کچھ نہ کچھ مل ہی جاتی تھی لیکن بقول غالب۔ ”اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے“ تو جون اس کے لیے سکون آور دوا ویلیم استعمال کرتے تھے۔ یہ ڈاکٹری نسخے پر محدود استعمال کی دوا مقدار سے زیادہ لینے پر خطرناک بلکہ مہلک بھی ثابت ہوتی ہے۔ جون میرے سامنے ہتھیلی پر گولیاں انڈیل کر نگل جاتے تھے اور ان کو چنے کہتے تھے۔ میں نے زاہدہ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ ایسا نہ ہو کسی رات سوئیں تو روز قیامت اٹھیں۔ وہ بے بسی سے بولی کہ وہ میرے روکنے سے رک جائیں گے؟ مجھے تو پتا بھی نہیں چلتا۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
اپنے بارے میں احمد اقبال کا فرمانا یہ ہے:
ایک اور موقعہ پر سوال ہوا ”دن میں آپ کتنی سگرٹیں پیتے ہیں اور چائے کے کتنے کپ۔ شراب سے تو شغل کرتے ہوں گے“
میں نے کہا ”سگرٹ میں نے 1964 کے بعد ایک بھی نہیں پی۔ صبح ناشتے میں چائے اور شام کو ایک مگ کافی ضرور پیتا ہوں۔ اور کچھ نہیں۔ نہ شراب نہ چرس نہ ہیروئین“

پتا نہیں ادیب شاعر کے بارے میں یہ تصور کب قائم ہوا۔ شاید غالب اور جوش سے منٹو تک کے قصے دماغوں میں بسے ہوئے تھے۔ میں جب گلشن میں تھا تو میری ایک تین چار سال کی بیٹی میز پر کھیلتی رہتی تھی۔ گلشن معمار میں تھا تو ایک پوتی نے اس کی جگہ لے لی تھی۔ مجھے فرق نہیں پڑتا تھا۔ بیوی کہتی تھی کہ کھانا لگ گیا ہے تب بھی میرا قلم چلتا رہتا تھا۔ میں کہتا تھا کہ نیک بخت میرا کندھا ہلا کے بتایا کرو۔ میں سنتا کچھ نہیں۔ انہماک کی یہ کیفیت آج بھی برقرار ہے

ایک دوست دانشور مدیر نے کہا ”یار یہ کہانی تمہارے دماغ میں آتی کیسے ہے“
میں نے ہنس کے کہا ”میرے چاروں طرف کہانیاں ہیں۔ کہانیاں میرے ساتھ چلتی ہیں۔ ہر وقت ہر جگہ ساتھ ہوتی ہیں“

انہوں نے کہا ”مثلاً یہ بجلی کا کھمبا ہے“

اگلے دن میں نے انہیں کہانی پیش کی۔ ”ایک فقیر سردی گرمی برسات یہاں بیٹھتا تھا، چیتھڑوں اور پلاسٹک سے سر پر چھت بنالی۔ آتے جاتے لوگ کچھ سکے پھینک جاتے۔ کبھی کسی گھر سے دو روٹیاں آ جاتیں، پہلے ایک کتے کا پلا آیا۔ پھر کوئی بلی کا بچہ پہنچ گیا۔ سب ایک دوسرے کے دشمن مل جل کے رہتے۔ قصہ مختصر ایک رات فقیر مر گیا۔ صبح وہاں بلی اور کتا سوگوار بیٹھے تھے جو اب بڑے ہو چکے تھے“

مدیر صاحب کو یقین آ گیا کہ میں انسان نہیں کہانیوں کی چلتی پھرتی آٹومیٹک مشین ہوں۔
 

جاسمن

لائبریرین
کاشف زبیر کی زندگی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ یہ بات بھی کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ وہ معذور تھے۔ بڑی مشکل زندگی گزاری اور ابھی بہت سی خوشیاں دیکھنی باقی تھیں کہ زندگی نے ساتھ چھوڑ دیا۔ شاید ان کو خود بھی احساس ہو، اسی لیے اتنا زیادہ کام بھی کیا۔ تحریریں دیکھ کر نہیں لگتا کہ ان کی زندگی مختصر تھی۔ کہانیاں پڑھتے پڑھتے بھی کافی سال نکل جائیں گے۔۔۔
کاشف زبیر کی معزوری کا پتہ بھی ڈائجسٹوں سے چلا تھا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
41881472.jpg

Psychology of Money
Timeless Lessons on Wealth, Greed and Happiness by Morgan Housel​












یہ کتاب مکمل ہو گئی ہے۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
میں آج کل پائتھن اور ویب اسکریپنگ کے متعلق پی ڈی ایف بکس پڑھ رہا ہوں ۔۔۔ کچھ نہ کچھ ویڈیوز بھی دیکھ لیا کرتا ہوں ۔۔۔ شاید کچھ سمجھ میں آجائے !
 

محمداحمد

لائبریرین
دولت کی نفسیات پہ اب ایک شاندار مضمون اہل محفل کا حق ہے احمد بھائی :)

فلک بھائی یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے کافی پیچیدہ ہے۔ اگر ممکن ہوا تو میں کچھ نہ کچھ خلاصہ لکھ دوں گا۔ ویسے اس کا بنیادی موضوع پیسے کی نفسیات نہیں ہے بلکہ پیسے کے حوالے سے لوگوں کی نفسیات ہے (بات وہی ہے) لیکن کسی کسی کو سمجھنے میں دقت ہو سکتی ہے۔

ویسے یوٹیوب وغیرہ پر اس کتاب کا خلاصہ مل سکتا ہے، جسے سننا یقیناً مفید رہے گا۔
 
Top