آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟

یاقوت

محفلین
اردو کتب کی آن لائن خریداری کیلئے ایک اچھا سٹور یہاں کتابیں رعایتی قیمت پر مل جاتی ہیں۔ سوچا احباب کے ساتھ شیئر کروں شایدکسی کا فائدہ ہوجائے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم، نوابزادہ لیاقت علی خان کی سوانح
Liaquat Ali Khan: His Life and Work by Muhammad Reza Kazimi
یہ کتاب ڈاکٹر رضا کاظمی کا پی ایچ ڈی مقالہ تھا جو 1992 میں تحریر کیا گیا اور 1997 میں پہلی بار چھپا۔ مقالے کا موضوع لیاقت علی کا کردار بطور آل انڈیا مسلم لیگ کے ہانریری (جنرل) سیکرٹری تھا اور صرف 1947 تک کا احاطہ کرتا تھا۔ کافی سالوں کے بعد اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا تو اس میں خاطر خواہ اضافہ اور تبدیلیاں کر کے، لیاقت علی خان کا بطور وزیر اعظم عہد بھی شامل کر لیا گیا اور کتاب کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا۔ مصنف موصوف کے مطابق انگریزی زبان میں یہ لیاقت علی خان کی پہلی مکمل اور مستند سوانح ہے۔

کتاب کا اسلوب اور انداز تحریر مقالوں جیسا ہی ہے اس لیے ادبی چاشنی سے خالی ہے، معلوماتی بہرحال ہے!

9780199402212.jpg
 

محمد وارث

لائبریرین
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم، نوابزادہ لیاقت علی خان کی سوانح
Liaquat Ali Khan: His Life and Work by Muhammad Reza Kazimi
یہ کتاب ڈاکٹر رضا کاظمی کا پی ایچ ڈی مقالہ تھا جو 1992 میں تحریر کیا گیا اور 1997 میں پہلی بار چھپا۔ مقالے کا موضوع لیاقت علی کا کردار بطور آل انڈیا مسلم لیگ کے ہانریری (جنرل) سیکرٹری تھا اور صرف 1947 تک کا احاطہ کرتا تھا۔ کافی سالوں کے بعد اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا تو اس میں خاطر خواہ اضافہ اور تبدیلیاں کر کے، لیاقت علی خان کا بطور وزیر اعظم عہد بھی شامل کر لیا گیا اور کتاب کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا۔ مصنف موصوف کے مطابق انگریزی زبان میں یہ لیاقت علی خان کی پہلی مکمل اور مستند سوانح ہے۔

کتاب کا اسلوب اور انداز تحریر مقالوں جیسا ہی ہے اس لیے ادبی چاشنی سے خالی ہے، معلوماتی بہرحال ہے!

9780199402212.jpg
انتہائی بور کتاب رہی یہ۔ دو تین بار پڑھتے پڑھتے چھوڑ بھی دی لیکن کسی طور مکمل کر ہی لی۔ انتہائی ناقص اسلوب تھا مصنف موصوف کا، مثال کے طور پر مدعا یا مسئلہ بیان نہیں کرتے اور صفائیاں پیش کرنے میں اپنے اشہب قلم کو دوڑائے چلے جاتے ہیں اور اس بھاکم دوڑ میں قاری بیچارے کے پلے کچھ نہیں پڑتا کہ ہوا کیا تھا؟

خیر، ایک دو باتوں کے علاوہ مجھے اس کتاب سے کچھ نہیں ملا، کچھ باتیں پہلے سے میرے علم میں تھیں کچھ اس کتاب نے معلومات بڑھائیں، ان کے علاوہ اگر کوئی کتاب خریدنا یا پڑھنا چاہے تو میرا مشورہ یہی ہوگا کہ اس عمل سے باز رہیں:

-1937ء کے الیکشنز کے وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے آنریری (جنرل) سیکرٹری نوابزادہ لیاقت علی خان کے یو پی میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اپنی جماعت سے شدید اختلاقات پیدا ہو گئے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے پارلیمنٹری بورڈ اور سیکرٹری کے عہدوں سے استغفیٰ دے دیا۔ مسلم لیگ کی ٹکٹ واپس کر دی، آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور جیتا اور بعد میں اپنی ایک پارٹی بنا ڈالی۔ بہرحال جناح سے ان کا رابطہ قائم تھا جس وجہ سے دوبارہ پارٹی میں آ گئے۔

-1944-45ء میں جب کانگریس کی ساری بڑی لیڈر شپ جیل میں تھی اور قائد اعظم علیل تھے، وائسرائے کی مدد سے کانگریس کے بھولابھائی ڈیسائی اور لیاقت علی خان کے دوران مذاکرات ہوئے جو ڈیسائی-لیاقت پیکٹ کے نام سے مشہور ہوئے اور معروف بات ہے۔ ان دونوں صاحبان نے اپنی اپنی قیادت سے بالا بالا یہ مذاکرات کیے تھے، قائد اعظم نے کئی بار کہا کہ مجھے اس پیکٹ کا علم اخباروں سے ہوا جب کہ کانگریس نے ڈیسائی کو باقاعدہ سزا دی اور 1946ء کے الیکشنز کے لیے ٹکٹ نہیں دیا جس سے ان کا کیرئیر ختم ہو گیا لیکن لیاقت علی خان یہاں بھی بچ گئے۔ یہ مذاکرات نواب یامین خان کی رہائش گاہ پر ہوئے تھے، وہ راوی ہیں کہ جب ڈیسائی نے لیاقت سے پوچھا کہ کیا جناح مان جائے گا تو لیاقت علی خان نے کہا کہ اسے چھوڑو، وہ چند دنوں کا مہمان ہے۔ ان کے متعلق ایسی ہی بات قائد اعظم نے کہی تھی جب وہ زیارت میں علیل تھے اور لیاقت علی خان ان کی عیادت کرنے آئے تھے!

- 25 دسمبر 1947ء کو وزیر اعظم لیاقت علی خان نے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کی سالگرہ کی ایک پارٹی منعقد کی جو بعد ازاں ان کی آخری سالگرہ ثابت ہوئی۔ سالگرہ کی یہ تقریب ایک بدمزگی پر ختم ہوئی۔ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت کی آپس میں پہلے ہی نہیں بنتی تھی، اس تقریب میں ایک جھگڑا اٹھ کھڑا ہو گیا کہ بیگم رعنا لیاقت کا خیال تھا کہ ان کا پروٹوکول فاطمہ جناح سے زیادہ ہونا چاہیئے۔ قائد اعظم نے بیگم لیاقت کی اچھی خاصی سرزنش کر دی۔ ایک دن بعد 27 دسمبر کو وزیر اعظم نے اپنا استغفیٰ گورنر جنرل کو بھیج دیا۔ قائد اعظم نے استغفی تو منظور نہیں کیا لیکن 30 دسمبر کو ایک حکم جاری کیا کہ آئندہ سے کابینہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گی جب تک کہ گورنر جنرل اس میٹنگ کی صدارت نہ کر رہا ہو۔ یہ ایک طرح سے وزیر اعظم کے سارے اختیارت سلب کرنے کی بات تھی اور خواتین کی لڑائی سے بہت بڑی بات تھی کہ وزیر اعظم صاحب استغفیٰ دیتے لیکن اس بات پر انہوں نے استغفی نہیں دیا، شاید ان کو علم تھا کہ یہ بیمار بوڑھا " چند دنوں کا مہمان ہے"۔
 

زیک

تکنیکی معاون
ایک دن بعد 27 دسمبر کو وزیر اعظم نے اپنا استغفیٰ گورنر جنرل کو بھیج دیا۔ قائد اعظم نے استغفی تو منظور نہیں کیا لیکن 30 دسمبر کو ایک حکم جاری کیا کہ آئندہ سے کابینہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گی جب تک کہ گورنر جنرل اس میٹنگ کی صدارت نہ کر رہا ہو۔ یہ ایک طرح سے وزیر اعظم کے سارے اختیارت سلب کرنے کی بات تھی اور خواتین کی لڑائی سے بہت بڑی بات تھی کہ وزیر اعظم صاحب استغفیٰ دیتے لیکن اس بات پر انہوں نے استغفی نہیں دیا، شاید ان کو علم تھا کہ یہ بیمار بوڑھا " چند دنوں کا مہمان ہے"۔
یعنی پاکستان میں آمریت کا آغاز جناح سے ہوا
 

محمد وارث

لائبریرین
Shameful Flight: The Last Years of the British Empire in India by Stanley Wolpert
شہرہ آفاق مصنف اور مستند مؤرخ کے قلم سے یہ کہانی ہے ہندوستان میں تاج برطانیہ کے آخری چند سالوں کی۔ مصنف موصوف نے برطانوی ذمہ داران کو بالعموم اور آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کےکردار کو بالخصوص موضوع بنایا ہے کہ کس شرمناک جلدی سے انہوں نے ہندوستان کو خون میں لت پت چھوڑا اور بھاگ گئے!
9780199066063.jpg
 
Top