آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟

محمداحمد

لائبریرین
یہ بیوقوف جرنیل آدھا ملک گنوانے کے بعد آج بھی اسی احمقانہ ڈاکٹرائن پر قائم ہیں کہ پاکستان کا دفاع افغانستان میں ہے۔ جیسے مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان میں ہے کہا کرتے تھے
سید ذیشان زیک

ایسے تو یہ لڑی سیاسی ہو جائے گی۔

آپ بتائیے کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟
 

محمد وارث

لائبریرین
بنگلہ بندھو، شیخ مجیب الرحمٰن کی ادھوری یادداشتیں یا خود نوشت :
The Unfinished Memoirs
شیخ مجیب الرحمٰن نے 1967ٗ سے 1969 کئ قید کے دوران جیل میں اپنی زندگی پر بنگلہ زبان میں ڈائریاں لکھنی شروع کی تھیں، یہ چار ڈائریاں تھیں، اور 1975 میں شیخ مجیب کے قتل کے بعد ایک طرح سے گم ہو گئی تھیں کہ 2004 میں دریافت ہو گئیں اور ان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد نے ان کو بنگلہ اور انگریزی میں ترجمہ کروا کر شائع کیا۔ پاکستان میں آکسفورڈ نے یہ کتاب چھاپی ہے۔

یہ یاد داشتیں ادھوری اس وجہ سے ہیں کہ یہ صرف پچاس کی دہائی کے وسط تک کا احاطہ کرتی ہیں، شیخ صاحب نے اس میں اپنے بچپن کے ساتھ ساتھ سیاسی جدوجہد کے آغاز پر بات کی ہے۔ تحریک پاکستان کا ذکر ہے، کلکتہ اور نواکھلی وغیرہ کے فسادات کا ذکر ہے، قیام پاکستان کا ذکر ہے۔ بنگلہ کو پاکستانی کی قومی زبان بنانے اور اردو کی مخالفت میں جو زوردار تحریک 1948 سے چلی تھی اس کا تفصیلی ذکر ہے۔ 1954 کے صوبائی انتخابات میں جگتو (یونائیٹڈ) فرنٹ کے بننے اور مسلم لیگ کے خلاف بے مثال کامیابی کی کہانی ہے، وغیرہ۔ مجموعی حیثیت میں کہہ سکتے ہیں کہ انتہائی نامکمل ہے لیکن پھر بھی کارآمد اور معلوماتی کتاب ہے!



9780190706111.jpg
 

زیک

تقریباً غائب
منگولوں، ترکوں اور سٹیپ کی اقوام پر مطالعہ کا آغاز چنگیز خان سے

چنگیز خان کے بعد گولڈن ہورڈ (سنہری اردو؟)
 

محمد وارث

لائبریرین
مشہور پاکستانی سفارتکار جمشید مارکر کی پاکستانی لیڈروں کے خاکوں اور ان کے متعلق ان کے تاثرات پر مبنی کتاب
Cover Point: Impressions of Leadership in Pakistan
جمشید مارکر، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دوستوں میں سے تھے۔ قائد اعظم کے ساتھ ان کا تعلق نہیں رہا لیکن ان پر تاثرات ا نہوں نے اس کتاب میں لکھے ہیں۔ لیاقت علی خان سے لے کر جنرل مشرف تک ہر حکمران کے ساتھ ان کا تعلق رہا۔ جنرل ایوب کے دور میں پاکستانی سفارت کار بنے اور پھر ایک عمر اسی کام میں گزار دی۔ جمشید مارکر، امریکہ، سویت روس، مغربی جرمنی، مشرقی جرمنی،فرانس، جاپان، کینڈا، اور دیگر کئی ملکوں میں پاکستان کے سفیر رہے اور اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ میں بھی پاکستان کے نمائندے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کرکٹ کے بھی شائق تھے اور ان کا شمار پاکستان کے اولین کرکٹ کمنٹیٹرز میں ہوتا تھا اور اسی حوالے سے کتاب کا نام ہے کہ ان کے بقول کور پوائنٹ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے وکٹ کے آس پاس جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہ بھی نظر آتا ہے اور کرکٹ فیلڈ کی ایک اوور آل صورتحال بھی نظر آتی رہتی ہے۔
60f2e479b57ff1626530937.jpg
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
The New Pakistan by Dr Satish Kumar
سب سے پہلے یہ وضاحت کہ یہ"نیا پاکستان" عمران خان کا نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کا ہے۔ بھٹو نے بھی اقتدار سنبھالنے کے بعد نئے پاکستان ہی کا نعرہ لگایا تھا۔

یہ کتاب انڈیا سے 1978ء میں چھپی تھی اوربھٹو کے اقتدار میں آنے اور جانے یعنی عروج و زوال کی کہانی ایک انڈین کی نظر سے ہے۔ مصنف نے اس میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھٹو کے اقتدار سنبھالنے سے لے کر بھٹو کے تختہ الٹنےتک کا تفصیلی نقشہ کھینچا ہے اور اس میں پاک بھارت تعلقات بھی آ گئے ہیں۔ کتاب کی اشاعت کے وقت بھٹو ڈیتھ سیل میں تھے اور مقدمہ جاری تھا سو اس حوالے سے اس کہانی کو "نامکمل" بھی کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال ایک انڈین کی نظر سے پاکستانی سیاست کو دیکھنا ایک عمدہ تجربہ ہے!

41imD+frFjL._SX331_BO1,204,203,200_.jpg
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
کتاب کی اشاعت کے وقت بھٹو ڈیتھ سیل میں تھے اور مقدمہ جاری تھا سو اس حوالے سے اس کہانی کو "نامکمل" بھی کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال ایک انڈین کی نظر سے پاکستانی سیاست کو دیکھنا ایک عمدہ تجربہ ہے!

یقیناً ایک اچھی کتاب ہوگی !!!!
پڑھنا ضروری ہوگیا ہے وارث میاں !
 

زیک

تقریباً غائب
2020 اور 2021 میں الیکشنز میں یہاں جارجیا میں سیاسی بھونچال آ گیا جب نہ صرف صدارتی انتخاب میں بلکہ دو سینیٹ سیٹوں پر بھی ڈیموکریٹ دو دہائیوں بعد جیتے۔ سینیٹ کی اس جیت کے نتیجے میں ڈیموکریٹس اس ایوان میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس تبدیلی پر صحافی گریگ بلیوسٹین کی یہ کتاب پڑھنی شروع کی ہے۔
 

علی وقار

محفلین
جنرل نیازی نے اپنے اوپر جو دھبے لگے ہوئے ہیں وہ دھونے کی کوشش کی ہے، میں یہ کتاب اب تک آدھی سے زیادہ پڑھ چکا ہوں سو اس کا لب لباب تو کسی حد تک جان چکا ہوں، ویسے اس موضوع پر جس نے بھی کتاب لکھی ہے اس نے سارا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے اور خود کو بچانے کی۔ دیگر یہ کہ یہ کتاب خالص فوجیانہ نکتہ نظر سے لکھی گئی ہے اور اس میں سیاسی اسباب کم کم ہی آئے ہیں بلکہ فوجی پلانز پر تفصیلی بحث ہے۔

جنرل نیازی کے موٹے موٹے دلائل کچھ یوں ہیں:

-جنرل یحییٰ اور بھٹو نے لاڑکانہ سازش کے تحت مشرقی پاکستان میں ایک فوجی شکست پلان کی تا کہ سارا ملبہ ایسٹرن کمان پر ڈل جائے۔
-جنرل ٹکا اور جنرل صاحبزادہ یعقوب دونوں ہی نا اہل تھے، خاص طور پر جنرل ٹکا۔ جی ایچ کیو میں چیف آف سٹاف جنرل گل حسن نے مشرقی کمان کی کوئی مدد نہیں کی۔
-مشرقی پاکستان میں نہ پوری فوج تھی اور نہ ہی ان کا ساز و سامان، جو تین ڈویژن فوج مشرقی پاکستان میں تھی ان کے بھی ٹینک اور توپیں مغربی پاکستان میں تھے۔مشرقی پاکستان میں ایئر فورس اور نیوی زیرو تھی۔
-انڈیا کو پاکستان پر ایک اور دس کی برتری حاصل تھی، جب کہ بھارتی کمانڈر کے مطابق ایک اور چار کی برتری حاصل تھی، امریکی اندازے ایک اور چھ کی برتری کے قریب ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا کو مکمل ہوائی اور بحری برتری حاصل تھی۔
-پاکستان کے قیام کے وقت سے پالیسی تھی کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کیا جائے گا اور اسی لیے وہاں زیادہ فوج نہیں تھی یعنی اگر انڈیا مشرقی پاکستان پر حملہ کرے گا تو مغربی پاکستان جوابی طور پر انڈیا پر جارحانہ حملہ کرے گا اور یوں انڈیا کو مشرقی پاکستان پر قبضے سے باز رکھا جائے گا لیکن 1971ء میں ایسا نہیں کیا گیا۔
-جنرل نیازی کے مطابق جب انہوں نے مئی جون 1971ء میں گوریلوں پر کافی حد تک قابو پا لیا تھا تو جی ایچ کیو سے اجازت مانگی کہ انڈیا کے اندر گھس کر گوریلا ٹھکانوں کو تباہ کیا جائے، جس کا نتیجہ انڈیا کے ساتھ کھلی جنگ تھا۔ اس وقت انڈیا کی فوج مکمل طور پر تیار نہیں تھی (اور اسکی تصدیق بعد میں انڈین جنرلز نے بھی کی) لیکن یحیی و دیگر نہیں مانے۔
-21 نومبر 1971ء سے لے کر (جب انڈیا نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا) 3 دسمبر 1971ء تک (جب مغربی پاکستان نے انڈین پنجاب پر جوابی حملہ کیا)، جنرل نیازی نے بہت حد تک انڈینز کو روکے ہوئے تھا لیکن مغربی پاکستان جرنیلوں نے سارے ساز و سامان کے ساتھ اگلے دو ہفتوں میں ساڑھے پانچ ہزار مربع میل مغربی پاکستانی علاقے پر انڈیا کا قبضہ کروا دیا جس سے ان کی نا اہلی واضح ہوتی ہے خاص طور پر جنرل ٹکا اور جنرل گل حسن کی۔
-جنرل نیازی سرنڈر کے لیے تیار نہیں تھے لیکن ان کو مجبور کیا گیا، صدر اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالحمید نے نیازی کو حکم دیا کہ مغربی پاکستان کو بچانے کے لیے مشرقی پاکستان میں سرنڈر کر دیا جائے۔

یہ اور اس طرح کے دیگر سب جنرل نیازی کے دلائل ہیں جن میں سے کچھ تو بہت حد تک صحیح ہیں اور کچھ سے اختلاف کیا جا سکتا، کچھ کو کچھ لوگ جھوٹ کا پلندہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

بہرحال میرے نزدیک جنرل نیازی اتنا بڑا "ولن" نہیں ہے جتنا بیان کیا جاتا ہے۔ جنرل نیازی بڑ بولا ضرور تھا، بڑے بڑے دعوے کرتا تھا، انڈیا کو انڈیا میں گھس کر مارنے کی باتیں کرتا تھا لیکن سرنڈر کے وقت وہ انتہائی مجبور تھا۔ دنیا کا کوئی بھی جنرل ہوتا، مشرقی پاکستان میں شکست اس کا مقدر ہوتی کیونکہ وہاں مقابلہ تھا ہی نہیں، انڈیا کا حملہ چاروں طرف سے تھا اور آسمانوں، سمندر اور دریاؤں کے راستے بھی۔ ہاں ایک داغ جنرل نیازی پر رہ جاتا ہے کہ اس نے پاکستانی فوجیوں کو بنگالی عورتوں کی بے حرمتی کرنے کی اجازت دی، اس میں کتنی صداقت اور کتنا پراپیگنڈہ ہے یہ شاید ہی کبھی کسی کو معلوم ہو سکے۔
نہایت عمدہ تجزیہ۔یہ کتاب پہلی فرصت میں پڑھنا چاہوں گا۔
 

زیک

تقریباً غائب
Jinnah of Pakistan by Stanley Wolpert
شہرہ آفاق مصنف کے قلم سے لکھی گئی قائداعظم محمد علی جناح کی سوانح عمری جو قائد کی مستند ترین سوانح سمجھی جاتی ہے۔ کافی برسوں سے کمرے میں دھرے ڈبے میں بند تھی، اب اس کی باری آ ہی گئی۔
51CGSykTZXL._SX373_BO1,204,203,200_.jpg
کچھ حیرت ہوئی کہ آپ نے یہ کتاب نہیں پڑھی تھی۔
 

محمد وارث

لائبریرین
Jinnah: Creator of Pakistan by Hector Bolitho
یہ کتاب قائد اعظم محمد علی جناح کی سرکاری سوانح ہے اور 1954ٰٰ میں پہلی بار چھپی تھی۔ اس کتاب کی تحقیقی حیثیت بہت زیادہ اچھی نہیں ہے اور وولپرٹ کی شہرہ آفاق کتاب پڑھنے کے بعد میں اس کتاب کو پڑھنا نہیں چاہ رہا تھا لیکن بس مطالعے کے تسلسل کے لیے پڑھنا شروع کر دی ہے۔
9780195473230.jpg
 
Top