آنکھ ضبطِ خمار جانے جاں ایک تازہ بہار جانے جاں

حسین شمسی

محفلین
آنکھ ضبطِ خمار جانے جاں
ایک تازہ بہار جانے جاں

بھول جانا تمہیں ممکن ہی نہیں
اے میرے نو نہار جانے جاں

کان کس نے بھرے ہے یہ تیرے
ہے تو میرا ہی پیار جانے جاں

تھک گیا دن کو حوصلہ دے کر
رات میری سنوار جانے جاں

حسن تیرے سے چمکتا مہتاب
اور کتنا سنگھار جانے جاں

گاؤں سارا ہے راخ کی مانند
لا تو واپس بہار جانے جاں

مجھے بسا لے اپنے سینے میں
مجھ میں آئے نکھار جانے جاں

ہو گئی چاک گریبان میری
نہ کر اتنا کرار جانا جاں

آکر لوٹاؤ مجھے ادھار میرا
عشق تجھ پہ ادھار جانے جاں

حسین شمسی بسمل
 

عاطف ملک

محفلین
محفل میں خوش آمدید حسین بھائی،۔۔۔۔۔۔امید ہے کہ آپ کو محفل سے اور ہمیں آپ سے استفادہ کا موقع ملے گا۔مناسب سمجھیں تو تعارف کے زمرے میں تعارف پیش کر دیجیے۔
آنکھ ضبطِ خمار جانے جاں
ایک تازہ بہار جانے جاں

بھول جانا تمہیں ممکن ہی نہیں
اے میرے نو نہار جانے جاں

کان کس نے بھرے ہے یہ تیرے
ہے تو میرا ہی پیار جانے جاں

تھک گیا دن کو حوصلہ دے کر
رات میری سنوار جانے جاں

حسن تیرے سے چمکتا مہتاب
اور کتنا سنگھار جانے جاں

گاؤں سارا ہے راخ کی مانند
لا تو واپس بہار جانے جاں

مجھے بسا لے اپنے سینے میں
مجھ میں آئے نکھار جانے جاں

ہو گئی چاک گریبان میری
نہ کر اتنا کرار جانا جاں

آکر لوٹاؤ مجھے ادھار میرا
عشق تجھ پہ ادھار جانے جاں

حسین شمسی بسمل
اچھی کوشش ہے لیکن شاید ابھی مزید بہتری چاہتی ہے۔ہمارے حساب سے اسے اصلاحِ سخن کے زمرے میں ہونا چاہیے تاکہ اس پر اساتذہ کلام کر سکیں۔
 
محفل میں خوش آمدید حسین بھائی،۔۔۔۔۔۔امید ہے کہ آپ کو محفل سے اور ہمیں آپ سے استفادہ کا موقع ملے گا۔مناسب سمجھیں تو تعارف کے زمرے میں تعارف پیش کر دیجیے۔

اچھی کوشش ہے لیکن شاید ابھی مزید بہتری چاہتی ہے۔ہمارے حساب سے اسے اصلاحِ سخن کے زمرے میں ہونا چاہیے تاکہ اس پر اساتذہ کلام کر سکیں۔
اصلاح سخن میں منتقل کردیا گیا ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
جانے جاں تو بے معنی لفظ ہے۔ اگر ذہن میں جانِ جاں ہو تو درست ہو سکتا ہے۔ یہ کنفرم ہو جائے تو آگے بڑھا جائے
یہ غزل پھر بہتر ہے عروضی طور پر، دو بحور کا کنفیوژن ضرور ہے جیسا شارق آمین کو ابھی لکھ چکا ہوں
 
Top