آشعار براے اصلاح

جب میری جبیں ھو گی، یثرب کی گلی ھو گی۔۔۔۔۔۔
اے ذوق بتا تو ہی، وہ کیسی گھڑی ھو گی۔۔۔

دوزخ ھے کہ جنت ھے، یہ کس کو خبر ھو گی۔۔۔۔۔
دنیا تو تجھے تکنے محشر میں کھڑی ھو گی۔۔۔۔

سارے کا نپتے ھوں گے جب ڈر سے سر ء محشر۔۔۔۔
اس وقت بھی آقا کو امت کی پڑی ھو گی۔۔۔۔
 
عابد بھائی اشعار پیارے ہیں، مطلع میں جبیں کا تعلق یثرب کی گلی سے شاید بن نہیں رہا۔ میری ذاتی رائے ہے۔ باقی اساتذہ بہتر سمجھتے ہیں۔
آپ کی راے قابل ءقدر ھے مگر یہ مرے دل کی بات ھے۔۔
بجا ھے ضرورت کے تحت یثرب استعمال کیا ھے مگر اس سے مقصد میں شائد فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔
 

الف عین

لائبریرین
پہلی بات تو یہ کہ یثرب لفظ سے احتیاط بہتر ہے۔
دوسری بات، مدینے کی گلی میں سجدے کا ارادہ ہے کیا؟ یہ تو شرک ہو گا نعوذ باللہ۔
دوسرا شعر مطلع نہیں ہے لیکن ردیف ’ہو گی‘ سے ایسا حساس ہوتا ہے۔ گلی، گھڑی، گئی، ملی، نئی، پڑی وغیرہ قوافی ہوں گے۔ اگرچہ بقیہ قوافی میں صرف گھڑی کا قافیہ کھڑی اور پڑی استعمال کئے گئے ہیں۔ لیکن غزل میں درست ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ دوسرے اشعار میں دوسری قسم کے قوافی بھی شامل ہوں۔
تیسر شعر بحر سے خارج ہے۔یوں بحر میں آ سکتا ہے
سب خوف زدہ ہوں گےجب ڈر سے سرِ محشر
 

عاطف ملک

محفلین
پہلی بات تو یہ کہ یثرب لفظ سے احتیاط بہتر ہے۔
متفق
دوسری بات، مدینے کی گلی میں سجدے کا ارادہ ہے کیا؟ یہ تو شرک ہو گا نعوذ باللہ۔
سر بصد احترام ایک بات عرض کرنا چاہوں گا۔
عین ممکن ہے کہ میں شعر کو نہ سمجھ سکا ہوں لیکن میری فہم کے مطابق یہاں خاکِ مدینہ پر سجدہ ریز ہونے کی بابت اشارہ ہے۔جو کہ سجدہِ نماز بھی ہو سکتا ہے۔
چہ جائیکہ معاذاللہ مدینے کی گلی کو سجدہ کرنے کی بات ہو رہی ہو۔
مدینے کی خاک پر سر بسجود ہونے کی خواہش تو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔
جہاں تک یاد پڑتا ہے حدیث شریف میں بھی "سجدے کے بعد سر پر خاک کی موجودگی کو باعثِ رحمت" قرار دیا گیا ہے۔
امید ہے آپ درگزر سے کام لیں گے اس بات پر۔
 
متفق
متفق

سر بصد احترام ایک بات عرض کرنا چاہوں گا۔
عین ممکن ہے کہ میں شعر کو نہ سمجھ سکا ہوں لیکن میری فہم کے مطابق یہاں خاکِ مدینہ پر سجدہ ریز ہونے کی بابت اشارہ ہے۔جو کہ سجدہِ نماز بھی ہو سکتا ہے۔
چہ جائیکہ معاذاللہ مدینے کی گلی کو سجدہ کرنے کی بات ہو رہی ہو۔
مدینے کی خاک پر سر بسجود ہونے کی خواہش تو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔
جہاں تک یاد پڑتا ہے حدیث شریف میں بھی "سجدے کے بعد سر پر خاک کی موجودگی کو باعثِ رحمت" قرار دیا گیا ہے۔
امید ہے آپ درگزر سے کام لیں گے اس بات پر۔

سر بصد احترام ایک بات عرض کرنا چاہوں گا۔
عین ممکن ہے کہ میں شعر کو نہ سمجھ سکا ہوں لیکن میری فہم کے مطابق یہاں خاکِ مدینہ پر سجدہ ریز ہونے کی بابت اشارہ ہے۔جو کہ سجدہِ نماز بھی ہو سکتا ہے۔
چہ جائیکہ معاذاللہ مدینے کی گلی کو سجدہ کرنے کی بات ہو رہی ہو۔
مدینے کی خاک پر سر بسجود ہونے کی خواہش تو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔
جہاں تک یاد پڑتا ہے حدیث شریف میں بھی "سجدے کے بعد سر پر خاک کی موجودگی کو باعثِ رحمت" قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرک کا تو کوئ بھی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔اللہ کے حضور سجدہ تو ھر جگہ کیا جا سکتا ھے مگر جہاں اللہ کے انوارات کی بارش ھو رھی ھو وھاں سر جھکانے کا ایک الگ ہی روحانی کیف ھے۔۔۔۔۔۔۔ بہر حال جو بات دوسروں کو غلط فہمی میں مبتلا کرے وہ بات ٹھیک بھی ٹھیک نہیں ھوتی۔۔۔۔۔۔ بہت مشکل ھے یہاں پاوں پھونک پھونک کر چلنا پڑتا ھے۔۔۔ اللہ پاک معاف فرماے۔۔۔۔
 
Top