آزادی مارچ اپڈیٹس

زرقا مفتی

محفلین
خود پی ٹی ائی کی وڈیو کے مطابق عمران تسلیم کرتا ہے کہ اس کے ایجنسیوں سے تعلقات رہے ہیں۔ اور وہ مشرف کے ریفرنڈم میں حمایت پر معافی بھی مانگتا ہے
نوازشریف نے تو آج تک ضیا الحق کی حکومت کا حصہ بننے پر قوم سے معافی نہیں مانگی اُسے کہیں قوم سے معافی مانگے
 

x boy

محفلین
جنرل سی سی نمودار ہوجائے گا تو مسئلہ پیچیدہ ہوجائے گا۔
اللہ ہم سب کو امن و امان میں رکھے، آمین
 

زرقا مفتی

محفلین
بلکل جہموری ہے
مگر اس احتجاج کی آڑ میں کروڑوں عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنا، محاصرہ، دھمکیاں، غیرمناسب زبان اختیار کرنا جائز نہیں ہے
نہتے عوام پر گولی چلانا جائز ہے ؟؟
اگر نہیں
تو نفرین بھیجئے پنجاب حکومت پر اور ذمہ داروں کو فوری عبرت ناک سزا ئیں دینے کا مطالبہ کیجئے

اپنے بھائی بھتیجوں سمدھیوں کو وزارتوں پر فائز کرنا جائز ہے ؟؟
اگر نہیں
تو مذمت کیجئے نواز شریف کی اور دوسرے حق دار مسلم لیگی راہنماؤں کو وزارت دینے کا مطالبہ کیجئے

دھاندلی سے جیتنے والوں کو وزیر اور سپیکر بنانا جائز ہے ؟؟
اگر نہیں تو مطالبہ کیجئے ان وزیروں اور سپیکر کے استعفوں کا

پولیس اور عدلیہ کا غیر منصفانہ استعمال جائز ہے
اگر نہیں تو مطالبہ کیجئے
ان اداروں کو غیر سیاسی بنانے کا

کیا ملک میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے ؟؟
اگر ہے تو پی ٹی آئی کے اس مطالبے کی حمایت کیجئے

اگر یہ سب نہیں کر سکتے تو نواز شریف کو بادشاہ سلامت کا تاج اگلے چار کے لئے پہنا دیجئے ۔ چار سال بعد یہی تاج زردار ی کو پہنا دیجئے گا ۔ پھر اپنی نسلوں کو کہہ دیجئے گا
حوصلہ نہیں تھا سچ سننے کا سچ کہنے کا حق مانگنے کا
اس لئے تمہارا مستقبل فروخت کر دیا

اب آ جایئے سب مضحکہ خیز ریٹنگز لے کر

کیونکہ سچ بولنے والے کا پہلے مذاق اُڑایا جاتا ہے
پھر متشدد طریقے سے اس کی مخالفت کی جاتی ہے
اور پھر اسے ایسے تسلیم کر لیا جاتا ہے جیسے اس کے لئے کسی دلیل یا ثبوت کی ضرورت نہ تھی
 

زرقا مفتی

محفلین
میں نوازشریف کا حامی نہیں
عمران اپنی غلطی خود تسلیم کرچکا ہے۔ یہ غلطیوں پر غلطی کررہا ہے
آپ آج پہلے تو یہ بتائیں آپ کس کے حامی ہیں سچ کے یا جھوٹ کے
کس بات کے قائل ہیں صحت مند گفتگو کے یا بحث برائے بحث کے اور مخالفت برائے مخالفت کے
 

زرقا مفتی

محفلین
تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیئے
تبصرےصفحہ شیئر کریںصفحہ پرنٹ کریںدوستوں کو بھیجئے
281631-ShahMehmoodqureshiFile-1408615270-618-640x480.jpg

اگر حکومت کریک ڈاؤن بند کردے اور ہمارے کارکنوں کو آنے دے تو ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں، شاہ محمود قریشی۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمارے خلاف جارحانہ کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے ایسے ماحول میں مذاکرات کرنا بے سود ہے۔

ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایک بار پھر اسلام آباد کو کنٹینرز لگا کر سیل کیا جا رہا ہے، ہمارے خلاف جارحانہ کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور ہمارے کارکنوں کو اسلام آباد آنے سے روکا جا رہا ہے، ایسی صورت حال میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا بے سود ہے اس لئے ہم نے مذاکرات کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اسے معطل کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے درخواست کی ہے کہ تمام راستے کھولے جائیں اور ہمارے کارکنوں کو آنے کی اجازت دی جائے تو ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ کو ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ کسی دوسرے فرد کو اضافی ذمہ داریاں دی جائیں گی تا کہ ہمارے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا سکے۔ آفتاب چیمہ نے پہلے بھی ہمارے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے انکار کر دیا تھا کیونکہ انھیں اندازہ تھا کہ اگر تحریک انصاف کے کارکنوں پر لاٹھی جارچ کیا گیا تو حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز میرے گھر پر حملہ کروایا گیا اور اس کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جا رہی، یہ کیسے حکمران ہیں کہ ایک طرف تو مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب ہمارے گھروں پر حملے کرتے ہیں اور ہمارے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔

http://www.express.pk/story/281631/
 

زرقا مفتی

محفلین
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایڈیشنل آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ کو تبدیل کر کے ڈی آئی جی خالد خٹک کو آئی جی کی اضافی تعنیات کر دیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے آئی جی اسلام آباد آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ کو تبدیل کر کے ڈی آئی جی خالد خٹک کو آئی جی خالد خٹک کو اٖضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے وفاقی حکومت کی جانب سے آئی جی اسلام آباد کو تبدیل کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آفتاب چیمہ نے ہمارے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے سے انکار کیا اس لئے انھیں تبدیل کر دیا گیا۔
http://www.express.pk/story/281644/
 
Top