آدم کا بیٹا سے ایک ملاقات

قیصرانی

لائبریرین
محفل کے ایک رکن بنام آدم کا بیٹا سے کافی دن قبل بات ہوئی تھی کہ وہ Jyväskylä نامی شہر میں رہتے ہیں۔ سوئے اتفاق کہ میری اکثر آوارہ گردی اسی شہر کے راستے ہوتی ہے جو جنوبی فن لینڈ کو شمالی فن لینڈ سے ملانے والے تین اہم راستوں میں سے ایک پر واقع ہے۔ پہلے پہل تو تعارف ہوا کہ اصل نام وغیرہ کیا ہیں۔ پھر مشاغل اور پھر پڑھائی وغیرہ سے ہوتی ہوئی بات ملاقات پر جا رکی۔ میں نے وعدہ کیا کہ جونہی اس شہر سے گذرا، حاضری لگ جائے گی

پچھلے ویک اینڈ پر میرا چکر شمالی ناروے کو لگا تو پہلے سوچا تھا کہ ان سے ملاقات ہو سکتی ہے کہ میرے روٹ میں اس شہر سے راستہ تقریباً ایک گھنٹہ مختصر پڑتا۔ تاہم عین وقت پر کچھ دوستوں کی کال آئی کہ ان سے ملنا لازمی ٹھہرا کہ ان سے کرسمس کے تحائف کا تبادلہ ہونا تھا۔ خیر میں نے آدم کا بیٹا سے معذرت کر لی تھی کہ اس بار مشکل ہے۔ وہ بے چارے کافی مایوس ہوئے اور پھر بولے کہ بھائی پھر کب ملاقات ہوگی۔ میں نے جھٹ سے اگلے ویک اینڈ کی حامی بھر لی۔ یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے کہ مجھے ڈرائیونگ کرنے کا بہت شوق ہے اور یہ دو گھنٹے کی ڈرائیو تو کسی شمار قطار میں نہیں تھی

خیر دو دن قبل ان کا پتہ وصول فرمایا اور گوگل کر کے بھی دیکھ لیا کہ پتہ واقعی درست ہے (بندے دا کوئی پتہ لگدا اے)۔ خیر جمعہ کی رات کو ہماری فون پر بھی ہلکی پھلکی گپ شپ ہوئی تھی اور آج کی تفصیلات طے ہوئی تھیں۔ رات کو میں سوا دو بجے کے بعد سویا ۔ ارادہ تھا کہ صبح آٹھ بیس پر اٹھوں گا، کچھ صفائی کر کے پھر روانہ ہو جاؤں گا۔ الارم بجا، سنوز کیا، سنوز کیااور پھر سنوز کیا۔ پھر تھک ہار کر نو بجے کا الارم لگا دیا۔ نو بجے ہر حال میں اٹھنا ہی پڑا۔ کپڑے بدلے اور گاڑی نکالی اور سب سے پہلے پہنچا شیل گیس سٹیشن پر۔ وہاں سے ٹینک فل کرایا اور سیدھا موٹر وے پکڑی۔ موٹر وے اس گیس سٹیشن سے ایک کلومیٹر دور ہے۔ خیر موٹر وےپر پہلی خوشخبری یہ ملی کہ ٹریفک بہت کم تھی۔ فن لینڈ میں موٹر وے دو رویہ ہوتی ہے۔ اس لئے جب رش کا وقت ہو تو سچ میں کافی گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔ ویک اینڈ پر یہی مسئلہ سب سے زیادہ تنگ کرتا ہے۔ بارش بھی ہو رہی تھی ہلکی پھلکی۔ اس وجہ سے بھی اکثر موٹر وے پر لوگ اوور سپیڈنگ کرتے ہیں کہ اگر کسی نے انہیں اوور ٹیک کیا تو اس کے ٹائروں سے مٹی وغیرہ اور پانی پچھلی گاڑی کو بہت بدصورت بنا دیتا ہے

پہلے میرا ارادہ تھا کہ راستے میں تمپرے شہر رکوں گا کہ وہاں میک ڈونلڈز ہے جہاں کی کافی مجھے بہت پسند ہے۔ پھر کوچہ آلکساں کی صدارت کا خیال آیا تو میں نے سوچا کہ کون انڈیکیٹر دبائے اور پھر گاڑی موڑے۔ چلتے چلو۔ چند کلومیٹر دور دوسرے میک ڈونلڈز پر بھی یہی ہوا۔ اس کے بعد راستے میں جو دو تین جگہیں ہیں، جہاں میں اکثر رکتا ہوں، وہاں بھی نہیں رکا اور سیدھا بھائی صاحب کے شہر کا رخ کئے رکھا

میرے گھر سے کل فاصلہ دو گھنٹے سات منٹ کا بنتا ہے۔ نکلتے وقت ایس ایم ایس کر دیا تھا کہ میں روانہ ہو گیا ہوں۔ خیر پہنچ گیا۔ وہاں پہلے گاڑی کی پارکنگ تلاش کی کہ وہاں پرائیوٹ پارکنگ ہے جس کی وجہ سے بغیر اجازت گاڑی ٹھہرانے کی قیمت 60 یورو یعنی تقریباً 9،000 پاکستانی روپے ہے۔ میں نے گاڑی سڑک کے کنارے وہاں روک دی جہاں نو پارکنگ کا کوئی نشان نہیں تھا۔ پھر نیچے اترا اور سیدھا بھائی صاحب کے گھر کے دروازے پر پہنچ گیا۔ اب ذرا انتظار فرمائیے کہ ایک اور بات یاد آ گئی ہے۔ کل فاصلے کی بات اس لئے کی ہے کہ تمپرے سے Jyväskylä تک کا زیادہ تر سفر ٹو وے ہائی وے ہے جس پر کئی جگہوں پر اوور ٹیکنگ کے لئے اضافی لین بنی ہوتی ہیں۔ لیکن سڑک یہاں اکثر تنگ ہی ہے اور کیمرے جا بجا۔ سپیڈ لمٹ 50 سے 100 تک کچھ بھی ہو سکتی ہے، اگرچہ جاتے ہوئے 80 ہی زیادہ تر رہتی ہے اور واپسی پر 100۔ پھر یہاں ویری ایبل سپیڈ لمٹ استعمال ہوتی ہے۔ یعنی موسم کی مناسبت سے ٹریفک کنٹرول روم سپیڈ لمٹ کم یا زیادہ کرتا رہتا ہے۔ کیمروں کی وجہ سے اکثر لوگ مجبوراً سپیڈ کی پاسداری کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس روٹ پر سب سے زیادہ ٹریلر ٹو کئے جاتے ہیں۔ ٹو شدہ ٹریلر کی گاڑی کی حد رفتار 80 کلومیٹر ہوتی ہے جو اکثر باٹل نیک بن جاتی ہے اور پیچھے سو سو یا دو دو سو تک گاڑیاں بھی پھنس جاتی ہیں۔ آگے نکلنے کی اسی فرسٹریشن کی وجہ سے اکثر لوگ غلطی کرتے اور حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔اتنی بوریت کافی ہے؟ چلئے اب اصل بات کو شروع کرتے ہیں

میں نے ڈور بیل بجائی اور فوراً سے بیشتر دروازہ کھلا اور بھائی جی سامنے۔ سلام دعا کی، گلے ملے اور پھر اندر تشریف لے گئے (صاحب خانہ کی فرمائش پر، ورنہ تو میں ویسے عام سا ہی اندر چلا جاتا)

اندر میں نے جوتے اتارے (فننش کلچر میں عام طور پر گھر میں داخل ہو کر جوتے اتار دیئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر گھروں میں فرش مناسب حد تک گرم ہوتا ہے اور پھر کارپٹ وغیرہ بھی اسی وجہ سے بچھے ہوتے ہیں کہ گھر کے اندر جوتوں کا تکلف نہ کرنا پڑے)۔ بھائی نے جھٹ سے سلپیر سامنے رکھ دیئے، کہ یہ پہن لیں۔ خیر وہ پہنے۔ ان سے سلام دعا ہوئی پھر بھائی نے پوچھا کہ کافی پیئں گے۔ نیکی اور پوچھ پوچھ والی بات یاد نہیں آئی، لیکن وہی سمجھ لیجئے۔ کچن میں تشریف لے گئے (جی میری آمد و روانگی سادہ سی نہیں بلکہ تشریف آوری تھی)۔ وہاں مختلف کھانوں کی سہانی خوشبوئیں ہر سمت چھائی ہوئی تھیں۔ شرمو شرمی میں نے نظریں چُرائے رکھیں۔ خیر ٹیبل کے پاس بیٹھ گئے۔پھر بھائی نے ایک مشکل سوال کیا، چائے کہ کافی۔ اب دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ چائے کا کہوں، لیکن کافی کی کمی بھی تنگ کر رہی تھی۔ میں نے مروت میں کہہ دیا کہ جو بھی مناسب سمجھیں۔ شاید میرے دل میں یہ چور خواہش تھی کہ شاید دونوں ہی مل جائیں گی۔ بھائی بات کو نہیں پا سکے اور انہوں نے کافی بنانا شروع کر دی۔ عام طور پر میں بلیک کافی پیتا ہوں (گذشتہ کچھ عرصے سے) اور کریم والی کافی اب نگلنا مشکل ہو جاتی ہے۔ خیر۔ بھائی نے جو کافی بنائی، وہ ڈھیر سارے دودھ اور تھوڑے سے پانی اور خوب ساری مزے کی کافی سے بنی تھی۔ اس لئے بہت اچھی لگی۔ پھر کھانے کا دور شروع ہوا۔ پہلے سٹارٹر کے طور پر سوپ تھا۔ پھر اس کے بعد چنوں والے چاول اور بگھاری ہوئی دال اور اس کے ساتھ اوون بیکڈ چکن۔ یمی۔ ابھی آپ ان کے مزے لیں، جب تک بھائی صاحب اور میں باتیں جاری کر لیں۔ ویسے ہم مسلسل بولتے ہی رہے تھے کہ چپ رہنا تو میں نے سیکھا ہی نہیں اور نہ ہی کسی کو چپ بیٹھنے دیتا ہوں :)

گپ شپ چلتی رہی، متفرق موضوعات پر گفتگو چلتی رہی۔ اچانک میں نے راستے کا حساب کیا تو سوچا کہ اس حساب سے تو موٹر وے کو بالکل نزدیک سے گذرنا چاہئے۔ واقعی موٹر وے، جہاں اس سال میں کم از کم چھ یا سات بار گذرا ہوں گا، بھائی کے گھر سے محض تیس یا چالیس میٹر دور تھی۔ کر لو گل :)

پھر گپ شپ کافی لمبی ہوتی رہی۔ پھر بھائی نے چائے بنائی جو واقعی بہت مزے کی لگی۔ بچپن میں ہم جب گاؤں جاتے تھے تو وہاں ہمارے مقامی رشتہ دار صبح صبح گڑ والی چائے بناتے تھے جو چینی والی چائے سے زیادہ میٹھی ہوتی تھی اور بہت مزہ دیتی تھی۔ وہی مزہ اب پھر آیا۔ ساتھ بسکٹ اور نمکین بھی چیزیں تھیں۔ چونکہ میں کافی بے شرم قسم کا انسان ہوں تو کھانے کے ساتھ میں پورا پورا انصاف کیا اور خوب لمبے لمبے ہاتھ مارے۔ ویسے بھائی کی کُکنگ بھی کافی قابل تعریف ہے۔ اچھا کھانا بناتے ہیں۔ ہماری فی الوقت نہ ہونے والی بھابھی کافی خوش قسمت ہیں :)

خیر، ساڑھے گیارہ پہنچا تھا، پونے تین بجے میں نے اجازت مانگی۔ جواب میں بھائی نے میرا چائے کا مگ دوبارہ بھر دیا۔ ان کے خلوص کو دیکھ کر میں مزید چند منٹ کے لئے صوفے پر پھیل گیا۔ پھر کچھ گپ شپ اور پھر میں نے دوبارہ اجازت مانگی۔ بھائی نے پوچھا کہ اپنی گاڑی ہے نا۔ میں نے کہا کہ جی۔ پھر بولے کہ آج رات یہیں رک جائیں۔ میں نے بتایا کہ کل ورک ڈے ہے تو مشکل ہو جائے گی۔ خیر اجازت لی اور پھر ہمارا فوٹو سیشن ہوا۔ میں نے بھائی کی اور بھائی نے میری تصویریں کھینچیں۔ پھر ہم نے ایک اور بھائی کو پکڑا اور ان کی مدد سے ہم دونوں کی تصویریں بنیں۔ یہ تصویریں حاضر ہیں۔ پھر میں نے سفر شروع کیا اور دو گھنٹے بعد گھر۔ پھر کچھ محفل گردی، کھانا کھایا، یہ روداد لکھی اور تصویریں بھی پیش کیں۔ اب اجازت

کمی بیشی کا سارا الزام بھائی پر، کیونکہ انہوں نے روداد لکھنے سے انکار کیا تھا اور میں نے یہ روداد لکھی
 

قیصرانی

لائبریرین
1498118_10151868917157183_377259331_o.jpg
 

قیصرانی

لائبریرین
لیں جی۔ پردیس میں اپنوں سے ملاقات بہت اچھی لگی۔ میں ڈیرہ غازی خان سے اور بھائی ملتان سے ہیں۔ یعنی پاکستانی فاصلہ 88 کلومیٹر اور عام فننش فاصلہ 185 کلومیٹر اور گاہے بگاہے تیس چالیس میٹر :)
 
آخری تدوین:
Top