فیض آج یوں موج در موج غم تھم گیا، اس طرح غم زدوں کو قرار آگیا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 5, 2017

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    آج یوں موج در موج غم تھم گیا، اس طرح غم زدوں کو قرار آگیا
    جیسے خوشبوئے زلفِ بہار آگئی، جیسے پیغامِ دیدارِ یار آگیا

    جس کی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم، رُو بُرو پھر سرِ رہگزار آگیا
    صبحِ فردا کو پھر دل ترسنے لگا ، عمرِ رفتہ ترا اعتبار آگیا

    رُت بدلنے لگی رنگِ دل دیکھنا ، رنگِ گلشن سے اب حال کھلتا نہیں
    زخم چھلکا کوئی یا کوئی گُل کِھلا ، اشک اُمڈے کہ ابرِ بہار آگیا

    خونِ عُشاق سے جام بھرنے لگے ، دل سُلگنے لگے ، داغ جلنے لگے
    محفلِ درد پھر رنگ پر آگئی ، پھر شبِ آرزُو پر نکھار آگیا

    سر فروشی کے انداز بدلے گئے ، دعوتِ قتل پر مقتل شہر میں
    ڈال کر کوئی گردن میں طوق آگیا ، لاد کر کوئی کاندھے پہ دار آگیا

    فیض کیا جانیے یار کس آس پر ، منتظر ہیں کہ لائے گا کوئی خبر
    میکشوں پر ہُوا محتسب مہرباں ، دل فگاروں پہ قاتل کو پیار آگیا​
    فیض احمد فیض
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,512
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    سکھوندر سنگھ کی آواز اور مظفر علی کی موسیقی میں یہی غزل سنیے۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    واہ لاجواب سر کیا کہنے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر