آج کے نوجوان ……سن لے میری فغاں​
​
تو تڑپ جائے گا اور مچل جائے گا​
یا قبر جائے گا یا سول جائے گا​
یہ نشہ تیرا تجھ کو نگل جائے گا​
تجھ کو جانا کہاں تھا ، چلا تو کہاں​
​
آج کے نوجوان ……سن لے میری فغاں​
​
پان والوں نے بھی تجھ کو بھٹکا دیا​
تجھ کو گندے نشے میں ہی اٹکا دیا​
تیرے منہ میں دبا پان گٹکا دیا​
منہ سے میمن! ترے خونی دریا رواں​
​
آج کے نوجوان ……سن لے میری فغاں​
​
منہ میں تیرے تعفّن کی بھرمار ہے​
گندگی کا ترے منہ میں انبار ہے​
کوئی پھوڑا نہیں ، بلکہ نسوار ہے​
چھوڑ دے یہ بری چیز ہے اے پٹھاں!​
​
آج کے نوجوان……سن لے میری فغاں​
​
تیری پانچوں نمازوں میں حائل ہیں یہ​
ضعف لاتے ہیں ایسے خصائل ہیں یہ​
کیا ہیں یہ؟ نیٹ ، کیبل ، موبائل ہیں یہ​
دشمنانِ جوانی ہیں یہ اے جواں​
​
آج کے نوجوان ……سن لے میری فغاں​
​
چند چیزیں ہیں ، جو لوگ پڑھ لیں انہیں​
نے اِدھر کے رہیں ، نے اُدھر کے رہیں​
ڈائجسٹ اور اخبار اور ناولیں​
قوتِ کار کو ان سے ہوگا زیاں​
​
آج کے نوجوان……سن لے میری فغاں​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top