آج نہیں کل ہو جانا ہے غزل نمبر 180 شاعر امین شارؔق

امین شارق

محفلین
الف عین سر یاسر شاہ
فعْل فعولن فعلن فعلن
آج نہیں کل ہو جانا ہے
صحرا جل تھل ہو جانا ہے

زِیست کو حاصِل کب ہے ثبات؟
شہر نے جنگل ہو جانا ہے

نظرِعنایت اُن کی رہی تو
عِشق کسی پل ہو جانا ہے

خار بھری ہے راہِ عِشق
پیروں نے شل ہو جانا ہے

کاش یہ مُجھ سے کہہ دے ساقی
کام ترا چل ہو جانا ہے

اُن کی توجہ مِل جائے تو
مُشکل نے حل ہو جانا ہے

صبر کریں تو کام ترا دِل
آج نہیں کل ہو جانا ہے

لفظ و مضامیں ہاتھ لگے تو
شعر مکمل ہو جانا ہے

شعروں کے انبار میں
شارؔق
اِک دِن پاگل ہو جانا ہے
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
شارق ، ہوجانا ہے معیاری اردو نہیں ہے ۔ غزل کی زبان فصاحت اور نفاست مانگتی ہے ۔ اس طرف دھیان دیں اور غزل میں معیار کو مقدار پر ترجیح دیں ۔

شارق بھائی ، جو خدشہ آپ نے مقطع میں ظاہر کیا ہے واضح نہیں ہورہا کہ یہ شاعر کے بارے میں ہے یا قارئین کے ؟ :D
 

الف عین

لائبریرین
الف عین سر یاسر شاہ
فعْل فعولن فعلن فعلن
آج نہیں کل ہو جانا ہے
صحرا جل تھل ہو جانا ہے
کیوں؟ کچھ وجہ تو بتاؤ

زِیست کو حاصِل کب ہے ثبات؟
شہر نے جنگل ہو جانا ہے
پہلا مصرع وزن مکمل نہیں
"نے ہونا" بھی درست اردو نہیں، میں اسے پنجابی اردو کہتا ہوں، یہاں کے سکھ بھی ایسے ہی بولتے ہیں
مجھے کرنا ہے.. درست
میں نے کرنا ہے.. غلط
یہ محاورہ کئی اشعار میں ہے

نظرِعنایت اُن کی رہی تو
عِشق کسی پل ہو جانا ہے
نظر وزن میں نہیں، اس کی جگہ چشم کہو

خار بھری ہے راہِ عِشق
پیروں نے شل ہو جانا ہے
عشق درست وزن نہیں، راہ الفت/ راہِ محبت کہو
محاورہ غلط دوسرے مصرعے میں

کاش یہ مُجھ سے کہہ دے ساقی
کام ترا چل ہو جانا ہے
چل ہو جانا؟

اُن کی توجہ مِل جائے تو
مُشکل نے حل ہو جانا ہے
محاورہ؟

صبر کریں تو کام ترا دِل
آج نہیں کل ہو جانا ہے
ٹھیک

لفظ و مضامیں ہاتھ لگے تو
شعر مکمل ہو جانا ہے
ٹھیک

شعروں کے انبار میں شارؔق
اِک دِن پاگل ہو جانا ہے
ظہیر میاں کی بات کئی ٹن وزنی ہے!
 

امین شارق

محفلین
الف عین سر@ظہیر احمد ظہیر سر اب یہ غزل دیکھیئے کیا اب درست ہوگئی ہے؟؟؟
ہر مسئلہ حل ہو جانا ہے
صحرا جل تھل ہو جانا ہے

ہر جاں کی تقدیر فنا ہے
شہر بھی جنگل ہو جانا ہے

چشمِ عنایت اُن کی رہی تو
عِشق کسی پل ہو جانا ہے

خار بھری ہے راہِ مُحبت
پیر آخر شل ہو جانا ہے

اُن کی توجہ مِل جائے تو
ہر مسئلہ حل ہو جانا ہے

صبر کریں تو کام ترا دِل
آج نہیں کل ہو جانا ہے

لفظ و مضامیں ہاتھ لگے تو
شعر مکمل ہو جانا ہے


شارؔق اِن اشعار سے اِک دِن
تُو نے پاگل ہو جانا ہے
 

الف عین

لائبریرین
مطلع اب بھی واضح نہیں کہ جل تھل کیسے ہو گا
مسئلہ وزن میں نہیں آتا، اور یہی مصرع دو اشعار میں ہے!
ہر جاں کی تقدیر فنا ہے
شہر بھی جنگل ہو جانا ہے
شہر کو بھی جنگل.... درست محاورہ ہے
تقابل ردیفین کا سقم بھی ہے، یعنی دونوں مصرعوں کا ہے پر اختتام
خار بھری ہے راہِ مُحبت
پیر آخر شل ہو جانا ہے
خاروں سے پیر شل ہو جانا بھی کبھی نہیں سنا
اُن کی توجہ مِل جائے تو
ہر مسئلہ حل ہو جانا ہے
مسئلہ کا ہی مسئلہ ہے
صبر کریں تو کام ترا دِل
آج نہیں کل ہو جانا ہے
کریں.. غلط، کرے درست ہو گا
لفظ و مضامیں ہاتھ لگے تو
شعر مکمل ہو جانا ہے
شعر کو مکمل ہو جانا درست محاورہ ہے
شارؔق اِن اشعار سے اِک دِن
تُو نے پاگل ہو جانا ہے
تجھ کو پاگل... درست محاورہ
 
Top