ساحر آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پر۔ ساحر لدھیانوی

آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پر
دیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئے

دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا
خوشحالئ عوام کے اسباب کیا ہوئے

جو اپنے ساتھ ساتھ چلے کوئے دار تک
وہ دوست وہ رفیق وہ احباب کیا ہوئے

کیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کا
مرتے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئے

بے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیب
وہ وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئے

جمہوریت نواز بشر دوست امن خواہ
خود کو جو خود دیے تھے وہ القاب کیا ہوئے

مذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہے
وہ نسخہ ہائے نادر و نایاب کیا ہوئے

ہر کوچہ شعلہ زار ہے ہر شہر قتل گاہ
یکجہتئ حیات کے آداب کیا ہوئے

صحرائے تیرگی میں بھٹکتی ہے زندگی
ابھرے تھے جو افق پہ وہ مہتاب کیا ہوئے

مجرم ہوں میں اگر تو گنہ گار تم بھی ہو
اے رہبران قوم خطا کار تم بھی ہو

ساحر لدھیانوی​
 
Top