shafiq.khalish،

  1. طارق شاہ

    شفیق خلش ::::عِلم کب مُفت میں ہاتھ آئے خلشؔ::::Shafiq.Khalish

    غزل وَسوَسوں کا اُنھیں غلبہ دینا! چاہیں سوچوں پہ بھی پہرہ دینا وہ سلاسل ہیں، نہ پہرہ دینا چاہے دِل ضُعف کو تمغہ دینا ٹھہری شُہرت سے حَسِینوں کی رَوِش! حُسن کے سِحْر سے دھوکہ دینا خود کو دینے سا تو دُشوار نہیں اُن کا ہر بات پہ طعنہ دینا بُھولے کب ہیں رُخِ مہتاب کا ہم ! اوّل اوّل کا وہ...
  2. طارق شاہ

    شفیق خلش ::::کب گیا آپ سے دھوکہ دینا:::: Shafiq.Khalish

    غزل کب گیا آپ سے دھوکہ دینا سب کو اُمّید کا تحفہ دینا چاند دینا، نہ سِتارہ دینا شَبْ بَہرطَور ہی تِیرَہ دینا سَبقَت اِفْلاس سے قائِم وہ نہیں ہے اَہَم پیار سے پَیسہ دینا در بَدر ہونا وہ کافی ہے ہَمَیں اب کوئی اور نہ نقشہ دینا ماسِوا یار کے، جانے نہ کوئی دلِ بے خوف کو خدشہ دینا کم...
Top