کرشن بہاری نور

  1. سیما علی

    اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت کرشن بہاری نور

    اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت ان دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت رات ہو دن ہو کہ غفلت ہو کہ بیداری ہو اس کو دیکھا تو نہیں ہے اسے سوچا ہے بہت تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی کبھی دریا نہیں کافی کبھی قطرہ ہے بہت میرے ہاتھوں کی لکیروں کے اضافے ہیں گواہ میں نے پتھر کی طرح خود...
  2. کاشفی

    زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں - کرشن بہاری نور

    غزل (کرشن بہاری نور) زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں اور کیا جُرم ہے، پتا ہی نہیں اتنے حصّوں میں بٹ گیا ہوں اپنے حصّے میں کچھ بچا ہی نہیں زندگی، موت تیری منزل ہے دوسرا کوئی راستا ہی نہیں سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں زندگی! اب بتا کہاں جائیں زہر بازار میں ملا ہی نہیں جس...
  3. حیدرآبادی

    کبھی دریا نہیں کافی ، کبھی قطرہ ہے بہت

    اک غزل اُس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت اِن دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت رات ہو دن ہو غفلت ہو کہ بیداری ہو اُس کو دیکھا تو نہیں ہے اُسے سوچا ہے بہت تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی کبھی دریا نہیں کافی ، کبھی قطرہ ہے بہت میرے ہاتھوں کی لکیروں کے اضافے ہیں گواہ میں نے پتھر...
  4. محمد وارث

    غزل - زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں‌ - کرشن بہاری نور لکھنوی

    زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں سچ گھٹے یا بڑے تو سچ نہ رہے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں اتنے حصّوں میں بٹ گیا ہوں میں میرے حصّے میں کچھ بچا ہی نہیں زندگی، موت تیری منزل ہے دوسرا کوئی راستا ہی نہیں جس کے کارن فساد ہوتے ہیں اُس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں اپنی رچناؤں میں...
Top