مرزا یاس یگانہ چنگیزی

  1. فرحان محمد خان

    یاس غزل : دل کی ہوس وہی ہے مگر دل نہیں رہا - مرزا یاس یگانہ چنگیزی

    غزل دل کی ہوس وہی ہے مگر دل نہیں رہا محمل نشیں تو رہ گیا محمل نہیں رہا پہنچی نہ اُڑ کے دامنِ عصمت پہ گرد تک اس خاک اُڑانے کا کوئی حاصل نہیں رہا رکھتے نہیں کسی سے تسلی کی چشم داشت دل تک اب اعتبار کے قابل نہیں رہا آہستہ پاؤں رکھیے قیامت نہ کیجیے اب کوئی سر اُٹھانے کے قابل نہیں رہا اک...
  2. فرحان محمد خان

    یاس غزل: دلِ آگاہ نے جب راہ پہ لانا چاہا - مرزا یاس یگانہ چنگیزی

    غزل دلِ آگاہ نے جب راہ پہ لانا چاہا عقلِ گم راہ نے دیوانہ بنانا چاہا ناگہاں چرخِ ستم گار نے کروٹ بدلی بختِ بیدار نے جب مجھ کو جگانا چاہا پھر سمانے لگی دنیا کی ہوا "مَیں" کی طرح زانوئے فکر سے جب سر کو اُٹھانا چاہا دلِ بیدار نے گھبرا کے مجھے چونکایا نفس نے جب کسی مشکل میں پھنسانا چاہا جذبۂ...
  3. فرحان محمد خان

    یاس غزل : خون کے گھونٹ بلانوش پیے جاتے ہیں - مرزا یاس یگانہ چنگیزی

    غزل خون کے گھونٹ بلانوش پیے جاتے ہیں خیر ساقی کی مناتے ہیں جیے جاتے ہیں ایک تو درد ملا اُس پہ یہ شاہانہ مزاج ہم غریبوں کو بھی کیا تحفے دیے جاتے ہیں آگ بجھ جائے مگر پیاس بجھائے نہ بجھے پیاس ہے یا کوئی ہَوکا پیے جاتے ہیں دولتِ عشق بھی مانگے سے کہیں ملتی ہے ایسے ہی اہلِ ہوس راند دیے جاتے...
  4. فرحان محمد خان

    یاس منتخب رباعیات -مرزا یاس یگانہ چنگیزی

    (شاعر کو فلسفی کیا پائیگا ) وہ جوش وہ اضطراب منزل میں کہاں وہ شوق طلب تھکے ہوئے دل میں کہاں شاعر کی تہ کو فلسفی کیا پہنچے منجدھار کا زور شور ساحل میں کہاں ؟ مرزا یاس یگانہ چنگیزی
  5. مزمل شیخ بسمل

    یاس کیا جانے آج خواب میں کیا دیکھا یاسؔ نے

    روشن تمام کعبہ و بت خانہ ہو گیا گھر گھر جمالِ یار کا افسانہ ہو گیا صورت پرست کب ہوئے معنی سے آشنا عالم فریب طور کا افسانہ ہو گیا چشمِ ہوس ہے شیفتۂ حسن ظاہری دل آشنائے معنیِ بیگانہ ہوگیا آساں نہیں ہے آگ میں دانستہ کودنا دیوانہ شوقِ وصل میں پروانہ ہوگیا کیفیتِ حیات تھی دم بھر کی میہماں لبریز...
  6. شمشاد

    ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا

    ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا ہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیا اسی فریب نے مارا کہ کل ہے کتنی دور اس آج کل میں عبث دن گنوائے ہیں کیا کیا پیامِ مرگ سے کیا کم ہے مژدہ ناگاہ اسیر چونکتے ہی تلملائے ہیں کیا کیا پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا...
  7. شمشاد

    یاس خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا

    خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا پیامِ زیرِ لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی، رہا نہ گیا گناہِ زندہ دلی کہیے یا دل آزاری کسی پہ ہنس لئے اتنا کہ پھر ہنسا نہ گیا سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانہ درد سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سنا...
Top