جوش ملسیانی

  1. طارق شاہ

    جوش ملسیانی ::::: بَلا سے کوئی ہاتھ مَلتا رہے ::::: Pandat Labhu Raam Josh Malsiyaani

    غزلِ جوش ملسیانی بَلا سے کوئی ہاتھ مَلتا رہے ! تِرا حُسن سانْچے میں ڈھلتا رہے ہر اِک دِل میں چمکے محبّت کا داغ یہ سِکّہ زمانے میں چلتا رہے ہو ہمدرد کیا، جس کی ہر بات میں شکایت کا پہلوُ نِکلتا رہے بَدل جائے خُود بھی، تو حیرت ہے کیا جو ہر روز وعدے بدلتا رہے مِری بے قراری پہ کہتے ہیں...
  2. کاشفی

    جب دُعائیں بھی کچھ اثر نہ کریں - جوش ملسیانی

    غزل (جوش ملسیانی) جب دُعائیں بھی کچھ اثر نہ کریں کیا کریں، صبر ہم اگر نہ کریں داستاں ختم ہو ہی جائے گی آپ قصّہ مختصر نہ کریں چھوڑتا ہی نہیں ہمیں صیّاد ورنہ پروائے بال و پر نہ کریں ہُو کا عالم حرم میں ہے اے شیخ ہم تو دو دن یہاں بسر نہ کریں قابل عفو میں نہیں، نہ سہی نہ کریں آپ درگذر نہ کریں...
  3. محمد وارث

    غزل - بلا سے کوئی ہاتھ ملتا رہے - پنڈت لبھو رام جوش ملسیانی

    بلا سے کوئی ہاتھ ملتا رہے ترا حسن سانچے میں ڈھلتا رہے ہر اک دل میں چمکے محبت کا داغ یہ سکّہ زمانے میں چلتا رہے ہو ہمدرد کیا جس کی ہر بات میں شکایت کا پہلو نکلتا رہے بدل جائے خود بھی تو حیرت ہے کیا جو ہر روز وعدے بدلتا رہے مری بے قراری پہ کہتے ہیں وہ نکلتا ہے دم تو نکلتا رہے پلائی ہے...
Top