بلراج کومل

  1. تعمیر

    معروف ادیب و شاعر بلراج کومل کا انتقال

    معروف ادیب اور شاعر بلراج کومل انتقال کر گئے۔ خدا ان کی روح کو شانتی دے۔ حیرت کی بات ہے کہ گوگل سرچ کرنے پر کسی بھی انگریزی روزنامے میں اس خبر کا کوئی ذکر نہیں ملا۔ حالانکہ انگریزی میڈیا غیرمسلم اردو قلمکاروں کی وفیات کو ترجیحا شائع کرتا ہے۔بیشتر اردو اخبارات نے بھی نظرانداز کیا ہے۔ صرف روزنامہ...
  2. پ

    نظم -کارِ خاک - بلراج کومل

    کارِ خاک وہ زیرِ خاک ہیں وہ لوگ ہم سے کوئی بھی وعدہ نہیں کرتے ہمیں ہیں جو سدا بہروپ بھرتے ہیں کبھی ماتم گساری کا کبھی محرومئ جاوید کا، یادوں کے رشتوں کا ہمیں ترتیب دیتے ہیں وہ تقدیریں وہ زنجیریں جو ان سے منسلک کرتی ہیں ہم شکوہ طرازوں کو پریشاں بے سہاروں کو ہماری داستانِ غم ہمارا...
  3. پ

    غزل- کھویا کھویا اداس سا ہو گا-بلراج کومل

    غزل کھویا کھویا اداس سا ہو گا تم سے وہ شخص جب ملا ہو گا قرب کا ذکر جب چلا ہو گا درمیاں کوئی فاصلہ ہو گا روح سے روح ہو چکی بدظن جسم سے جسم کب جدا ہو گا پھر بلایا ہے اس نے خط لکھ کر سامنے کوئی مسئلہ ہو گا گھر میں سب لوگ سو رہے ہوں گے پھول آنگن میں جل چکا ہو گا کل کی باتیں...
  4. ع

    نظم - "اکیلی" - بلراج کومل

    ایک "اکیلی" کے نام !! اُس "اکیلی" کے نام ۔۔۔ جو کبھی فلسطین کے ویراں علاقوں میں ملے کبھی عراق کے تباہ و برباد شہروں میں تو کبھی گجرات کی خون ریز سڑکوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عندلیب ! اکیلی شاعر : بلراج کومل اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا جانتی ہوں تمہارے لئے غیر ہوں...
  5. سیدہ شگفتہ

    مہمان - بلراج کومل

    مہمان شاعر : بلراج کومل سیہ پرندے اگر وہ کوّے نہیں تھے تو کیوں وہ آئے تھے اور منڈیر پر کائیں کائیں کا راگ ان کے انداز میں گھڑی بھر الاپ کر آنے مہماں کے سیلِ امکاں میں میرے تنکے بکھیر کر اُڑ گئے کچھ ایسے کہ لوٹ کر آج تک نہ آئے جو میرا مہمان تھا جسے میرے پاس آنا تھا بھول کر بھی ادھر نہ آیا...
Top