باقی احمد پوری

  1. سارہ خان

    دلِ دہقاں جو کھیتوں میں نہیں ہے

    دلِ دہقاں جو کھیتوں میں نہیں ہے تقّدس اب وہ فصلوں میں نہیں ہے سفر کرتے ہیں لیکن بے دلی سے یقیں شامل ارادوں میں نہیں ہے ہمارے عہد کے وہ مسئلے ہیں کہ جن کا حل کتابوں میں نہیں ہے جو ظالم ہے ، اُسے ظالم ہی کہہ دیں خلُوص اِتنا بھی لوگوں میں نہیں ہے ہوائیں سنسناتی پھر رہی ہیں کوئی چہرہ دریچوں...
  2. کاشفی

    کسی میں دم نہیں اتنا، سرِ شہرِ ستم نکلے - باقی احمد پوری

    غزل (باقی احمد پوری) کسی میں دم نہیں اتنا، سرِ شہرِ ستم نکلے ضمیروں کی صدا پر بھی، نہ تم نکلے، نہ ہم نکلے کرم کی ایک یہ صورت بھی ہوسکتی ہے، مقتل میں تری تلوار بھی چلتی رہے اور خوں بھی کم نکلے نہ میں واعظ، نہ میں زاہد، مریضِ عشق ہوں ساقی! مجھے کیا عذر پینے میں، اگر سینے سے غم نکلے محبت میں یہ...
  3. شیزان

    اے دل یہ تیری ضد، یہ تمنا عجیب ہے۔ باقی احمد پوری

    اے دل یہ تیری ضد، یہ تمنا عجیب ہے جو تجھ کو چاہیئے، وہ کِسی کا نصیب ہے ہم تم کِسی غرض کے اطاعت گزار ہیں ورنہ جہاں میں کون کِسی کے قریب ہے دل سے خیالِ وصلِ مکمل نکال دے اِتنا بہت نہیں کہ وہ تیرے قریب ہے چلتا ہے اہلِ زر کے اشاروں پہ حسن بھی اُس کی سنے گا کون جو مجھ سا غریب ہے اپنے عمل جہاں...
  4. شیزان

    یادوں کی گُونج دشتِ محبت میں اب بھی ہے - باقی احمد پوری

    یادوں کی گُونج دشتِ محبت میں اب بھی ہے یہ دل گئے دنوں کی رفاقت میں اب بھی ہے اِک یاد ہے جو نقش ہے لوحِ دماغ پر اِک زخم ہے جو دل کی حِفاظت میں اب بھی ہے رُکتے نہیں ہیں آنکھ میں آنسُو کِسی طرح یہ کاروانِ شوق ، مُسافت میں اب بھی ہے ترکِ تعلقات کو اِک عمر ہو چکی! دل ہے کہ بے قرار محبت میں اب...
  5. شیزان

    دلِ دہقاں جو کھیتوں میں نہیں ہے - باقی احمد پوری

    دلِ دہقاں جو کھیتوں میں نہیں ہے تقّدس اب وہ فصلوں میں نہیں ہے سفر کرتے ہیں لیکن بےدلی سے یقیں شامل ارادوں میں نہیں ہے ہمارے عہد کے وہ مسئلے ہیں کہ جن کا حل کتابوں میں نہیں ہے جو ظالم ہے ، اُسے ظالم ہی کہہ دیں خلُوص اِتنا بھی لوگوں میں نہیں ہے ہوائیں سنسناتی پھر رہی ہیں کوئی چہرہ دریچوں...
  6. شیزان

    جسے حیات سے نفرت بہت زیادہ تھی۔ باقی احمد پوری

    جسے حیات سے نفرت بہت زیادہ تھی ہمیں اُسی کی ضرُورت بہت زیادہ تھی اب ایک لمحۂ مفقُود کو ترستے ہیں وہ دن بھی تھے، ہمیں فُرصت بہت زیادہ تھی ہمارے گھر کی تباہی کا یہ سبب ٹھہرا ہمارے گھر میں سیاست بہت زیادہ تھی ہر ایک جرم کے پیچھے تھا جس کا ہاتھ یہاں اُسی کی شہر میں عزت بہت زیادہ تھی اِسی لیے...
  7. شیزان

    اداس بام ہے، دَر کاٹنے کو آتا ہے۔ باقی احمد پوری

    اُداس بام ہے، دَر کاٹنے کو آتا ہے ترے بغیر یہ گھر کاٹنے کو آتا ہے خیالِ موسمِ گُل بھی نہیں ستمگر کو بہار میں بھی شجر کاٹنے کو آتا ہے فقیہہِ شہر سے اِنصاف کون مانگے گا فقیہہِ شیر تو سَر کاٹنے کو آتا ہے اِسی لیے تو کسانوں نے کھیت چھوڑ دیئے کہ کوئی اور ثمر کاٹنے کو آتا ہے ترے خیال کا آہو...
  8. شیزان

    ٹائپنگ مکمل اب شام نہیں ڈھلتی۔ از۔ باقی احمد پوری سے انتخاب

    اب شام نہیں ڈھلتی از باقی احمد پوری منتخب غزلیں
  9. شیزان

    خود کو کب درمیان رکھتے ہیں۔ باقی احمد پوری

    خود کو کب درمیان رکھتے ہیں صرف تیرا دھیان رکھتے ہیں کون کہتا ہے چھت نہیں اپنی سر پہ سات آسمان رکھتے ہیں وہ ہمارے سوا کسی کا نہیں ہم بھی کیا کیا گمان رکھتے ہیں اُن کے انداز بھی نرالے ہیں ہم بھی اک اپنی شان رکھتے ہیں اتنے بےباک مت بنو باقی در و دیوار کان رکھتے ہیں باقی احمد پوری
  10. شیزان

    جو تجھ سے وابستہ ہے۔ ۔ مجھ پر فقرے کستا ہے۔ ۔ باقی احمد پوری

    جو تجھ سے وابستہ ہے مجھ پر فقرے کستا ہے طنز ہے اک بیماروں پر ہاتھ میں جو گلدستہ ہے تیری ہی سب راہیں ہیں میرا کون سا رستہ ہے بادل ہیں اور آنکھیں بھی دیکھیں کون برستا ہے ساون میں اک ناگ مجھے فرض سمجھ کے ڈستا ہے پانی کون پلائے گا خوں یہاں اب سستا ہے دیوانے کی بات سہی بات مگر برجستہ ہے...
  11. شیزان

    فقط دیوارِ نفرت رہ گئی ہے۔ باقی احمد پوری

    فقط دیوارِ نفرت رہ گئی ہے یہی اِس گھر کی صُورت رہ گئی ہے کوئی شامل نہیں ہے قافلے میں قیادت ہی قیادت رہ گئی ہے بطولت کذب کے حصّے میں آئی حقیقت بےحقیقت رہ گئی ہے کوئی کب ساتھ چلتا ہے کسی کے غرض کی ہی رفاقت رہ گئی ہے تگ و دو تو بہت کرتے ہیں لیکن خلوصِ دل کی قلّت رہ گئی ہے نہیں ہے اور کچھ...
  12. عمران شناور

    یہ کیا عجیب نظارا دکھائی دیتا ہے (باقی احمد پوری)

    باقی احمد پوری صاحب کی تازہ غزل پیشِ خدمت ہے۔ جو ایک مشاعرہ سے نوٹ کی گئی ہے: یہ کیا عجیب نظارا دکھائی دیتا ہے نہ چاند ہے نہ ستارا دکھائی دیتا ہے کبھی کبھی مرے آنگن میں پھول کھلتے ہیں کبھی کبھی وہ دوبارہ دکھائی دیتا ہے یہ کیا کہ ہم ہی کہے جائیں داستاں اپنی اسے بھی حال ہمارا...
  13. آصف شفیع

    خاموش چاہتوں کی مہک۔۔۔۔۔۔۔ باقی احمد پوری

    باقی احمد پوری صاحب کی ایک غزل احباب کیلیے۔ خاموش چاہتوں کی مہک اُس طرف بھی ہے جو میرے دل میں ہے وہ کسک اُس طرف بھی ہے کربِ شبانِ ہجر سے ہم بھی ہیں آشنا آنکھوں میں رتجگوں کی جھلک اُس طرف بھی ہے ہیں اِس طرف بھی تیز بہت، دل کی دھڑکنیں بیتاب چوڑیوں کی کھنک اُس طرف بھی ہے شامِ فراق...
  14. عمران شناور

    دیوار و در کو چوم کے نکلے تھے شہر سے (باقی احمد پوری)

    ہجرت کے موضوع پر باقی احمد پوری صاحب کے چار اشعار یاد آرہے ہیں ملاحظہ ہوں: دیوار و در کو چوم کے نکلے تھے شہر سے ہم اپنے گھر کو چوم کے نکلے تھے شہر سے اس کے قریب ہو کے گزرنا محال تھا اس کی نظر کو چوم کے نکلے تھے شہر سے وہ رہگزر تو ہم کو سرابوں میں لے گئی جس رہگزر کو چوم کے نکلے...
  15. عمران شناور

    تو نہیں تو تیرا دردِ جانفزا مل جائے گا --- باقی احمد پوری

    تو نہیں تو تیرا دردِ جانفزا مل جائے گا زندہ رہنے کا کوئی تو آسرا مل جائے گا اے مری چشمِ پشیماں اپنے آنسو روک لے رات کی تنہائی میں رونے سے کیا مل جائے گا زندگی کے کارواں پر کچھ اثر پڑتا نہیں‌ اک مسافر کھو گیا تو دوسرا مل جائے گا ساری بستی میں فقط میرا ہی گھر ہے بے چراغ تیرگی سے...
Top