اختر ہوشیار پوری

  1. فرخ منظور

    ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا ۔ ہری چند اختر

    ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا بروزِ حشر حاکم قادرِ مطلق خدا ہوگا فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا تری دنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی تری...
  2. کاشفی

    اور کچھ تیرے تصور کے سوا کام نہیں - اختر ہوشیار پوری

    غزل (اختر ہوشیار پوری) اور کچھ تیرے تصور کے سوا کام نہیں میں سمجھتا ہوں کہ اب عشق مرا خام نہیں یوں ہوس کار زمانے میں بہت ہیں لیکن اصل میں عشق جسے کہتے ہیں وہ عام نہیں تجھ کو دیکھا نہ تھا جب تک یہ مرا حال نہ تھا عشق پیغام ہے تیرا، مرا پیغام نہیں سجدہ کیا چیز ہے، کیا شے ہے دعاؤں کا...
  3. سیدہ شگفتہ

    لاحاصلی کا حاصل

    لا حاصلی کا حاصل شاعر: اختر ہوشیار پُوری پرندے شام ہوتے ہی گھونسلوں کو لوٹ آتے ہیں مگر کیوں لوٹ آتے ہیں جہاں دن بھر سُلگتی جلتی تپتی دُھوپ میں ہنس ہنس کے رہتے ہیں فضا کے راز سینے میں چُھپائے گُنگناتے ہیں بہت تانیں اُڑاتے ہیں وہاں شب کو بھی بسرام کرلیں دو گھڑی مِنقارِ زیرِ پُر رہیں...
Top