احمد سلمان

  1. نیرنگ خیال

    جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے (احمد سلمان)

    جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے یہ شہر سارا تو روشنی میں کھلا پڑا ہے سو کیا لکھوں میں وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اک دیا ہے وہ شاعری ہے دلوں کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں تمہاری باتوں کا ہر توقف جو بولتا ہے...
  2. نیرنگ خیال

    جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے، جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے (احمد سلمان)

    جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے، جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا جب اس کے کمرے سے لاش نکلی، خطوط...
Top