پڑی ہے کن کے پہلو میں مری بھی التجا محسؔن
مرے غم کا یہ پہلو تو بہت ہے نارسا محسؔن
-
یہ دل ہے گھر تمنا کا، یہاں بے حد اذیت ہے
یہ گھر تیرا ٹھکانا ہے، یہاں تو سر اٹھا محسؔن
-
کبھی ساحل، کبھی ساگر، کبھی صحرا، کبھی گلشن
کبھی رکھ کے ترے در پہ جبیں اپنی چلا محسؔن
-
ہوا ہے حادثہ پھر سے مرے ہی...