یہی تو فرق ہے:
اسلامی نظریہ میں وحی و الہام، ایمان کو علم کی حیثیت حاصل ہے۔
جبکہ مغربی نظریہ میں سائنس یا اسٹیبلشڈ فیکٹس کو ہی علم کہا جاتا ہے۔ وحی و الہام کی کوئی حیثیت نہیں۔
ابھی جو مفرور ہیں ان کو پکڑ کر واپس لایا جائے گا۔ جو پکڑے گئے ہیں ان سے پیسے نکلوائے جائیں گے۔ اگر اس احتسابی یا انتقامی عمل سے معیشت بیٹھ جاتی ہے تو بیٹھ جائے۔ پہلا کونسا یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں۔ ایک دفعہ قوم کو اس باجوہ / عمران ڈاکٹرائن سے بھی گزر جانا چاہئے۔
معیشت کا ان گرفتاریوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ خان صاحب نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں۔ یہ اسی وعدہ کی تکمیل ہے۔
قوم راضی تے کی کرے گا قاضی؟
اداروں کے اندر سے صرف این آر او کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ سچائی کی نہیں۔
اداروں میں ایک گروہ اپوزیشن کے ساتھ تیسری بار ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن خان صاحب کا تو آپ کو پتا ہی ہے کہ "میں کوئی این آر او نہیں دوں گا"۔ :)
منی لانڈرنگ کی ٹریل ثبوتوں کے ساتھ موجود ہے۔ وعدہ معاف گواہ سامنے آگئے ہیں۔ کیسز عدالت میں لگے ہیں۔ اب شریف فیملی عوام میں جا کر کہیں شور نہ مچادے کہ مقدمہ جھوٹا ہے اس لئے یہ میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے :)