نوجوان نسل پر اعتماد، میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھے: آرمی چیف
اسلام آباد: (دنیا نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس پی آر کا دورہ کیا اور اس دوران انٹرشپ میں آئے طلبہ سمیت شرکاء سے ملاقات کی اور نوجوان نسل پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
آئی ایس پی آر میں جاری انٹرن...
یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جناب۔ صحافیوں کا حکومت کو ہمہ وقت یہ کہنا کہ اپنی ذمہ داریاں ٹھیک سے نبھائے اور خود سارا وقت غیرذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کرنا درست رویہ نہیں ہے۔
عوام بہرحال صحافیوں پر حکومتی ترجمانوں سے زیادہ اعتبار کرتی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ صحافی غیرجانبدار ہیں۔
جبکہ حقیقت...
آرمی چیف کی مبینہ ایکسٹینشن کی وجہ سے پیچھے لائن میں لگے جرنیل حکومت کو دباؤ میں لانے کیلئے ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایکسٹینشن ملے گا یا نہیں اس فیصلہ کے بعد مولانا کی ناموس رسالت تحریک مدرسوں سے باہر نہیں آ سکے گی۔ اسلام آباد فتح کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ :)
یعنی آپ سمجھتے ہیں کہ صحافیوں کو ذمہ دارانہ صحافت کی بجائے بے بنیاد من گھڑت خبریں پیش کر نے کی پوری آزادی ہونی چاہئے؟ اور اگر کسی جھوٹی خبر پر ان کو ہتک عزت کا نوٹس موصول ہو تو یہ آزادی صحافت پر حملہ ہے؟
یہ محض الزام ہی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس نے میڈیا مالکان کو اشتہارات بےروزگار صحافیوں کو واپس بھرتی کرنے کیلئے دیئے ہیں۔ اب آگے سے میڈیا مالکان سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو حکومت کیا کر سکتی ہے؟ بہتر ہوگا کہ ایسے تنازعات میڈیا کورٹس میں حل کئے جائیں۔
تو آپ ہی بتائیں صحافیوں کا رونا دھونا کیسے بند کیا جائے؟
جب حکومت میڈیا مالکان کو اشتہارات نہیں دے رہی تھی تو یہ سڑکوں پر تھے۔ اب دے دیے ہیں تو یہ ابھی بھی سڑکوں پر ہی ہیں۔
جذبات کو چھوڑ کر حقائق پر بات کریں۔ کیا نجم سیٹھی جیسے پرانے اور منجھے ہوئے "صحافی" کا پرائم ٹائم شو میں بیٹھ کر یہ بیان دینا بنتا تھا کہ وزیر اعظم کی طلاق ہونے والی ہے؟
اور جب اس من گھڑت بے بنیاد الزام پر وزیر اعظم کی طرف سے چینل کو نوٹس بھیجا گیاتو نجم سیٹھی کی دھمکی آمیز ٹویٹ آگئی کہ یہ...
لفافے کسی حال میں خوش نہیں ہیں۔
حکومت میڈیا اشتہارات میں کمی کردے تو: ہم لٹ گئے، برباد ہو گئے، آزادی صحافت پر حملہ ہے
حکومت لفافوں کا رونا دھونا دیکھ میڈیا اشتہارات بڑھا دے تو: تحریک انصاف نے اپنے وعدوں پر یوٹرن لے لیا
یعنی دونوں صورتوں میں ان کی آہ و بکا کم نہیں ہونے والی کیونکہ ان کا گاڈفادر...
آج ہی آپ کے پسندیدہ ترین صحافی (لفافی) فرما رہے تھے کہ تحریک انصاف حکومت نے اپنے پہلے سال میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی دور کے پہلے سال سے زیادہ میڈیا اشتہارات دئے :)
مظہر عباس غالبا جیو نیوز سے منسلک صحافی ہیں۔
مریم نواز اور زرداری کی تقاریر و انٹرویوز سنسر کئے جانے پر انہیں تکلیف نہیں ہوگی تو کسے ہوگی :)
اگر ان دو (سزا یافتہ مجرم اور زیر حراست و تفتیش ملزم) کے علاوہ کسی اور کے حکومت پہ تنقید کرنے پر چینل بند کیا گیا ہے تو بتائیں۔
میڈیا پر مبینہ قدغن کے جو بڑے اعتراضات اٹھائے گئے تھے ان کا تفصیلی جواب میں یہاں دے چکا ہوں۔ اگر آپ کے پاس مزید کوئی اعتراض ہو تو وہاں بخوشی پیش کر سکتے ہیں :)
’پاکستانی میڈیا آزاد؟ ڈیئر وزیراعظم آپ کی معلومات انتہائی ناقص ہیں‘
زیر حراست و تفتیش ملزم کا انٹرویو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اجازت سے ہوتا ہے۔ آصف زرداری جو پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی لائے گئے تھے نے اسمبلی ہال سے بھاگ کر بلاول زرداری کے چیمبر میں چھپ کر انٹرویو ریکارڈ کروایا۔ یوں پروڈکشن آرڈر قانون توڑا اور اس وجہ سے ان کا انٹرویو بھی نشر کرنے سے روک دیا گیا۔
کمرشل میڈیا کو سرکاری خزانہ سے فنڈز دینا حکومت کی ذمہ داری کیسے ہے؟ وہ بھی ایک ایسے میڈیا کو جسے 72 سال قبل قائد اعظم نے قائم کیا تھا۔ کم از کم اس میڈیا کو تو اب تک اپنے پیروں پر کھڑے ہو جانا چاہئے تھا۔