دسمبر پھر سے لوٹ آیا ہر سال آتاہے ، اور تب پتا چلتا ہے ایک سال اور گزر گیا ،زندگی کی مدت کچھ اور کم ہو گئی ہے۔ بہت سی نادانیاں اس سال بھی کی ہوں گی۔ اور وقت نے کچھ پختگی بھی دے دی ہے سوچ کو، جینے کا کچھ ڈھنگ اور آگیا ہے۔ کچھ برداشت اور مل گئی ہے ۔ کچھ دنیا کے رنگ اور دیکھ لئے ہیں، اور بہتتتتت...