سرور صاحب کی غزل دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ طرح کا مصرع ہے۔ لیکن مجھے فی الوقت یاد نہیں آرہا کہ یہ شعر کس کا ہے اور میں نے کہاں پڑھا ہے اگر دوبارہ پڑھنے کو مل گیا تو ضرور بتائوں گا۔ غالباً اس زمین میں صابر ظفر کا بھی ایک شعر میں نے دیکھا ہے جو کچھ یوں ہے۔
تکون سی ہے خدا، کائنات اور بشر...