نتائج تلاش

  1. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    یہاں سے جھیل کے دوسری جانب کا منظر کافی شاندار تھا، تاہم کم وزیبلٹی نے تصویرکشی کا مزہ کرکرا کر دیا۔
  2. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    اس سڑک نما راستے کا آخری حصہ کافی حد تک ٹوٹا پھوٹا تھا۔ بالکل آخر میں پانی کافی صاف تھا اور نیچے پتھر صاف دیکھے جا سکتے تھے
  3. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    دائیں جانب سے ایک جزیرہ نما جگہ جھیل کے کچھ اندر تک آئی ہوئی ہے، جبکہ جھیل اس کے بہت آگے تک ہے۔ کم وزیبلٹی میں جھیل کا دوسرا کنارہ دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔
  4. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    سردیوں میں اوچھالی اور یہاں کی دیگر جھیلوں میں سائبیریا کی جانب سے آئے پرندے بے تحاشا تعداد میں دکھائی دیتے ہیں۔
  5. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    اوچھالی جھیل کے پار انگہ نامی گاؤں بھی ہے جو کہ یہاں سے نظر نہیں آ رہا تھا۔ انگہ گاؤں احمد ندیم قاسمی مرحوم کی جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔
  6. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    حسبِ عادت اور حسبِ توقع یہاں پہ بھی لوگوں نے خالی بوتلیں اور دیگر اشیاء بے دردی سے پھینک رکھی تھیں۔ شکر ہے کہ یہاں ابھی زیادہ رش نہیں ہوا کرتا۔
  7. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    اوچھالی جھیل پاکستان کی رامسر سائٹس میں شامل ہے۔ رامسر سائٹس کے بارے میں کچھ مزید تفصیل اس وکی پیڈیا لنک سے دیکھی جا سکتی ہے۔ مختصراً بتاتا چلوں کہ 1971 میں ایران کے شہر رامسر میں ویٹ لینڈز کے بارے میں یونیسکو یا ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کا کنونشن ہوا تھا جس میں ویٹ لینڈز کی بابت کچھ بات چیت یا...
  8. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    سکیسر کی بیس پہ اوچھالی گاؤں ہے جس کے ساتھ ہی اوچھالی جھیل واقع ہے۔ یہ ایک بہت بڑی جھیل ہے۔ میرے خیال میں منچھر جھیل کے علاوہ پاکستان میں شاید ہی کوئی جھیل اوچھالی سے بڑی ہو۔ جھیل میں اندر تک جاتی ایک سڑک بھی بنائی گئی ہے، جس کا ابتدائی حصہ سلامت ہے جبکہ آخر کا کافی حصہ اس حد تک ٹوٹ چکا ہے کہ اس...
  9. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    اس کے بعد سکیسر سے واپسی کا سفر شروع ہوا۔ سکیسر کی چڑھائی (جو کہ اب ہمارے لئے اترائی تھی) زیادہ مشکل نہیں ہے۔ سڑک کی حالت بھی ٹھیک ہی ہے۔ سکیسر کی بیس پہ واقع اوچھالی گاؤں سے تقریباً 650 میٹر کی آسان چڑھائی ہے۔ یہ تقریباَ اتنی ہی چڑھائی ہے جتنی اسلام آباد سے پیر سوہاوہ کی ہے، لیکن پیر سوہاوہ کی...
  10. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    سکیسر ٹاپ کے الپائن درخت
  11. یاز

    وادیِ سون، کٹاس ٹیمپل اور کھیوڑہ

    سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہیں۔ سکیسر کا ہل سٹیشن سالٹ رینج کا بلند ترین مقام ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 5000 فٹ ہے۔ سردیوں کے موسم میں اس پہ کبھی کبھار برف باری بھی ہوا کرتی ہے۔ ٹاپ پہ الپائن درخت بھی موجود ہیں، جبکہ ٹاپ سے کچھ نیچے دیگر درخت ہی ہیں جن کے نام ہمیں بھی نہیں آتے۔ سکیسر کا...
Top