تو مانے گا ترا آنچل مجھے کیوں اتنا پیارا ہے
اگر کانٹا ترے آنچل کو چھو کر پھول ہو جائے
عدم ہر مسئلہ دل کا سلجھ سکتا ہے خوبی سے
خرد انسان کی تھوڑی سی گر معقول ہو جائے
لاجواب! کیا بات ہے "عدم" کی
خواہشیں اتنی خوبصورت تھیں
کوئی دل سے اِدھر اُدھر نہ ہوئی
دل میں آنسو تو کم نہیں تھے عدم
آنکھ پاسِ ادب سے تر نہ ہوئی
واہ کیا عمدہ غزل ہے۔
خوش رہیے عاطف بھائی۔۔۔۔!
تجھی سے پیار ہے مجھ کو، تجھی سے سو شکوے
عجیب صنعتِ اضداد ہوگیا ہوں میں
فریب دے کے کسی سادہ لوح شیریں کو
سمجھ رہا ہوں کہ فرہاد ہوگیا ہوں میں
جنوں کے دام میں جب سے عدم ہوا ہوں اسیر
خرد کی قید سے آزاد ہوگیا ہوں میں
واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
کمال انتخاب ہے
آپ کی آنکھ اگر آج گلابی ہوگی
میری سرکار بڑی سخت خرابی ہوگی
محتسب نے ہی پڑھا ہوگا مقالہ پہلے
مری تقریر بہرحال جوابی ہوگی
ہر محبّت کو سمجھتا ہے وہ ناول کا ورق
اس پری زاد کی تعلیم کتابی ہوگی
بہت خوب عاطف بھائی !
شاندار غزل کا انتخاب کی ہے آپ نے۔