غزل
کیسا چپ چپ تھا مرے عزم سفر کو دیکھ کر
ڈر گیا میں اخری بار اپنے گھر کو دیکھ کر
میرے سر اس چار دیواری کے کتنے قرض تھے
سر جھکا جاتا تھا ان دیوار و در کو دیکھ کر
شہر سے رخصت کے منظر کا بھی اپنا کرب تھا
دل لہو روتا تھا اک اک رہ گزر کو دیکھ کر
کیا عمارت تھی کہ جس کو وقت غارت کر گیا
انکھ...
بہت خوب ! عمدہ انتخاب ہے۔
اور یہ دو شعر تو مجھے شروع سے بہت پسند ہیں۔
چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی
اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے
شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحال
اے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے
خوش رہیے۔