پھر کر گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں
رخصت قافلہ کا شور غش سے ہمیں اٹھائے کیوں
سوتے ہیں ان کے سائے میں کوئی ہمیں جگائے کیوںبار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کو
روئیں جو اب نصیب کو چین کہو گنوائے کیوںیادِ حضور کی قسم غفلت عیش ہے ستم
خوب ہیں قید...