یوں چلا سرکار کے لطف و عطا کا سلسلہ
کالعدم ٹھہرا میرے جرم و سزا کا سلسلہ
ذہن ہے کاسہ بکف ان کے خیالوں کے لیے
ہاتھ باندھے ہے کھڑا فکرِ رسا کا سلسلہ
از نور محمد جرال
ہم کسی کا گِلا نہیں کرتے
نہ ملیں ، جو ملا نہیں کرتے
چند کلیاں شگفتہ قسمت ہیں
سارے غنچے کھلا نہیں کرتے
جن کو دستِ جنوں نے چاک کیا
وہ گریباں سلا نہیں کرتے
آپ محتاط ہوں زمانے میں
ہر کسی سے ملا نہیں کرتے
جو محبت میں سنگِ میل بنیں
وہ جگہ سے ہلا نہیں کرتے
ناز ہے اُن کو بے وفائی پر...
غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں
جاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں
وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیں
جھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں
مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیا
یہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں
سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرنا
کیا یہ دنیا میں...
اٹھے نہ تھے ابھی ہم حالِ دل سنانے کو
زمانہ بیٹھ گیا حاشیے چڑھانے کو
بھری بہار میں پہنچی خزاں مٹانے کو
قدم اٹھائے جو کلیوں نے مسکرانے کو
جلایا آتشِ گُل نے چمن میں ہر تنکا
بہار پھونک گئی میرے آشیانے کو
جمالِ بادہ و ساغر میں ہیں رُموز بہت
مری نگاہ سے دیکھو شراب خانے کو
قدم قدم پہ...
حُدی (حجاز کے ساربان کا گیت )
درہم ودینارِ من
اندک وبسیار من
دولتِ بیدار من
ناقہ سیار من
آہوئے تاتار من
تیز ترک گام زن منزل ما دور نیست
دلکش و زیباستی
شاہد رعناستی
روکش حوراستی
غیرت لیلی استی
دختر صحرا ستی
تیز ترک گام زن منزل ما دور نیست
در تپش آفتاب
غوطہ انی در سراب
ہم بہ شب...
پیام مشرق ،جامع تعارف:
پیام مشرق , علامہ اقبال کا تیسرا فارسی مجموعہ کلام ہے۔ یہ پہلی بار1923ع میں شائع ہوا۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر، اب تک اس کے بیسیوں ایڈیشن اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔ اس میں علامہ اقبال کا تحریر کردہ مفصل اردو دیباچہ بھی شامل ہے
سبب تالیف:
پیام مشرق کے دیباچے میں علامہ اقبال...
چودھری خوشی محمد ناظر (پ 1869 م 1944 گگری بل سرینگر)
اردو شاعری کا ایک عظیم نام جن کی ایک نظم "جوگی" اردو کی کلاسیکی نظموں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مولوی نور الدین انور ، ناظر کے لیے وہی مقام رکھتے تھے جو اقبال کے لئے مولوی میر حسن کا تھا۔ ناظر آپ کے گاوں اور محلہ کے رہنے والے تھے۔ وہ ہریہ...
میرا اس دلبرِ بے مہر پہ قرباں ہونا
یاس و امید کا ہے دست و گریباں ہونا
کاٹ کر سر کو مرے ساتھ ہی اف اف کرنا
"ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا"
مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں جرم نہ ثابت کر دے
تیری چوکھٹ سے عیاں خونِ شہیداں ہونا
گرچہ دشوار ہوا درد کا سہنا اے دوست
لیکن آسان نہیں منت کشِ درباں...