مرثیہ نمبر 1
(گزشتہ سے پیوستہ)
( 48 )
جان آ گئی، یعقوب نے یوسف کو جو پایا
قرآں کی طرح رحل دو زانو پہ بٹھایا
منہ ملنے لگے منہ سے، بہت پیار جو آیا
بوسے لیے اور ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایا
دل ہل گیا، کی جبکہ نظر سینہ و سر پر
چُوما جو گلا، چل گئی تلوار جگر پر
(49)
جوش آیا تھا رونے کا مگر...