مرثیہ نمبر 1
(گزشتہ سے پیوستہ)
(101)
حضرت کا وہ کہنا کہ بہن صبر کرو صبر
امت کے لیے والدہ صاحب نے سہے جبر
وہ کہتی تھی کیونکر نہ میں روؤں صفتِ ابر
تم پہنو کفن اور نہ بنے ہائے مری قبر
لٹتے ہوئے امّاں کا گھر ان آنکھوں سے دیکھوں
ہے ہے تہہِ خنجر تمھیں کن آنکھوں سے دیکھوں
(102)
اس عمر میں...