آنسوؤں کے موسم میں ۔ اقبال ساجد
حُسین تیرے لیے خواہشوں نے خوں رویا
فضائے شہرِ تمنّا بہت اداس ہوئی
غبارِ ظلم پہ رنگِ شفق بھڑک اٹھا
زمیں پہ آگ بگولا گُلوں کی باس ہوئی
غموں کو کاشت کیا آنسوؤں کے موسم میں
یہ فصل اب کے بہت دل کے آس پاس ہوئی
وہ پیاس جس کو سمندر سلام کرتے ہیں
ہوئی تو تیرے...