عمار مطلب تو وہی ہے جو شعر کو پڑھ کر سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے تو لیکن آخر اس کا بھی کیا مطلب ہے تو وہ یہ کہ اس شعر میں ایک 'اسکول آف تھاٹ' یا فلسفے کی ایک سلسلے مثالیت پسندی یا 'آئیڈیل ازم' کا ذکر ہے جن کے نزدیک ظاہری اور حواسِ خمسہ کی دنیا اصل دنیا نہیں ہے جیسا کہ مادیت پسند یا میڑیلیسٹ کہتے...