صفحہ 46
دل فریب نظارہ تھا، دریا میں کہیں کہیں خشکی کے ٹیلے ابھرے ہوئے معلوم ہوتے تھے، ان پر درختوں کی ہریاول اور ان میں قمری و عنادل کے روح پرور چہچہے، پانی کی روانی آہستہ آہستہ ہم کو بہاتی رہی۔ ساحل کے قریب مینڈک ٹرّا رہے تھے۔ جھاڑیوں میں ہوا مدہم سروں کا راگ گاتی معلوم ہوتی تھی۔ ہم دونوں سہانی...