نتائج تلاش

  1. گُلِ یاسمیں

    آپ اسوقت کیا سوچ رہے ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔(9)

    ہم سوچ رہے ہیں کہ یہ تو اچھا ہوا کہ بچت ہوگئی۔ اللہ پاک ہمیشہ اپنی امان میں رکھیں۔ آمین
  2. گُلِ یاسمیں

    سحرِ بنگال ۔ گفتگو دھاگہ

    کُل صفحات۔۔۔۔ : 132 تقسیم شدہ صفحات :132 مکمل۔۔۔۔۔۔۔۔: 80 کام مکمل ہوا۔۔۔: 60،60 فیصد
  3. گُلِ یاسمیں

    آپ اسوقت کیا سوچ رہے ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔(9)

    دائیں بائیں اس لئے دیکھا ہو گا کہ کسی نے دیکھا تو نہیں؟ یا اس لئے کہ کوئی سہارا دے کر اٹھائے؟ اور کچھ خاص زخم بھی نہ تھا۔۔۔ یہ گھوڑے کے بارے بتا رہے ہیں یا گھڑ سوار کے لئے؟
  4. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے جو بھی ہوتا ہے۔
  5. گُلِ یاسمیں

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    دوبارہ عیادت کرنا منع تھا کیا ؟
  6. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 76 اس کے جسم میں مسرت کی لہر دوڑ گئی مگر سریع الزوال۔ چار ہی قدم چلنے سے اس کا سانس پھولنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ باغیچہ میں سے گزرا۔ جہاں اس کے مالک نے مختلف الالوان پھولوں کے پودے لگا رکھے تھے۔ اس نے چاہا کہ اپنے سُموں سے سب کو روند کر فنا کر دے اور اس طرح اپنے جوشِ انتقام کو سرد کر لے۔ مگر...
  7. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 71 تم مکار ہو۔ تم نے ایک گھنٹے تک اپنے فرضی افسانے سے ہمیں دھوکے میں رکھا۔ دیکھو تمہاری بیوی کے دائیں پاؤں پر ایک چھوٹا سا سانپ چڑھ رہا ہے۔ اور اسے خبر نہیں۔ علاوہ ازیں کھڑکیوں سے آنے والی ہوا کے باعث دروازوں کے پردے، چھت گیری کا کاغذ اور گلدستہ کی پتیاں وغیرہ جنبش میں ہیں۔ مگر تمہاری بیوی...
  8. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 66 نشانے مارنے شروع کئے۔ ہر بار چھری ایک مخصوص جگہ لگتی اور نرم تختے میں پیوست ہو جاتی۔ حتٰی کہ اس خاتون کا سر ان کے درمیان محصور ہو گیا۔ اس تمام دوران میں اس نے ایک دفعہ بھی تختے کی طرف اپنے چہرے کا رُخ نہیں کیا۔ اور نہ ایک جگہ ساکن رہا بلکہ ادھر ادھر ٹہل کر چھریاں پھینکتا رہا۔ اس کے بعد...
  9. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 61 ایک عورت سہم کر ایک مرد سے چمٹ گئی ہے۔ گھر میں تیسرا متنفس کوئی نہیں تھا۔ وہ زیادہ قریب پہنچ گیا اور خوب غور سے دیکھنے کے بعد پہچان لیا کہ عورت سوائے کملا کے کوئی نہیں۔ لیکن وہ حیران تھا کہ اس کے خدوخال میں فرق کیوں نہیں آیا۔ وہ اسی طرح شگفتہ و شاداب اور خرم و شاد تھی۔ عہدِ شباب کی...
  10. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 56 اس کو صفحہ ء قرطاس پر منتقل کر لوں گا۔ ابھی چند لمحے بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ فضا میں نغمے منتشر ہو کر ایک تموّج پید اکرنے لگے۔ میں نے دیکھا کہ ایک حسینہ ہاتھ میں بربط لئے ساحل کے قریب بیٹھی گا رہی ہے۔ موسیقی کا یہ کمال کہ سننے والوں کی روح بھی ان لطیف ترانوں پر تصدق ہو جانے کے لئے ایک...
  11. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 51 میں اس دنیائے آب و گِل میں آ گیا ہوں۔ اور بس۔ یہ محض ابلہی اور طفل تسلی ہے جو چاہو سمجھو لیکن یہی وہ معمولی سی بات ہے جو انسان کو دل برداشتہ کر دیتی ہے اور سب سے زیادہ دلربا ہستی سے متنّفر۔ بہرحال اس دن سے آج تک میں نے کسی سے محبت نہیں کی۔ صفحہ 52 افسانہائے عشق! قالب انسان ازل میں عشق...
  12. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 46 دل فریب نظارہ تھا، دریا میں کہیں کہیں خشکی کے ٹیلے ابھرے ہوئے معلوم ہوتے تھے، ان پر درختوں کی ہریاول اور ان میں قمری و عنادل کے روح پرور چہچہے، پانی کی روانی آہستہ آہستہ ہم کو بہاتی رہی۔ ساحل کے قریب مینڈک ٹرّا رہے تھے۔ جھاڑیوں میں ہوا مدہم سروں کا راگ گاتی معلوم ہوتی تھی۔ ہم دونوں سہانی...
  13. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 41 میں مصروف تھے۔ چہرے پر ایک رنگ آتا تھا ایک جاتا تھا۔ آخر منوہر نے طلسمِ سکوت کو توڑا۔ سُربالا ، کیا تم میرے پاس آئی ہو؟ مجھ سے کوئی ضروری کام ہے؟ اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ کہہ کر اس نے ساری کے نیچے سے سُربالا کا وہ ہاتھ پکڑ لیا ، جس میں گجرے تھے۔ اور انھیں دیکھ کر اظہارِ تنفّر سے...
  14. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 36 اس نے دیکھا کہ منوہر اپنی شریک حیات کے گلے میں بانہیں ڈالے محوِ خواب ہے۔ اس نے ایک لمحہ کے لئے سوچا کہ اب کیا تدبیر کرنی چاہئیے۔ دستک دے کر انھیں بیدار کر دینا نہ صرف زبردست حماقت بلکہ ایک حد تک غیر موزوں امر بھی ہے۔ اور بغیر تکمیلِ مقصد کے واپس چلے جانا گویا ہلاکت آرزو اور پامالی ء...
  15. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 31 بنوں۔ چاند سورج چھپنے کے بعد دوبارہ نکل آتے ہیں۔ ممکن ہے منوہر کا پھرا ہوا دل بھی کچھ عرصہ بعد میری طرف مائل ہو جائے۔ ہائے افسوس گلچینی کرتے زمانہ گزر گیا۔ میری آنکھوں نے خزاں کے بعد بہار دیکھی مگر اس سے کوئی سبق حاصل نہ کیا۔ ۔۔۔۔۔ 4۔۔۔ اس کا اضطراب بڑھتا گیا حتٰی کہ اس نے محسوس کر لیا...
  16. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 26 ملی ہوئی پھولوں کی مہک از خود ناک میں پہنچ کر مشامِ جان بن جاتی تھی۔ گویا وہ آسمانی ستاروں کی چمکدار گیندوں کو صرف دور سے دیکھتی تھی ان سے کھیلتی نہیں تھی۔ علی الصبح چمن میں جانا اس کا معمول تھا وہ رات بھر میں کھلے ہوئے ہر قسم کے تمام پھول توڑ لیتی۔ کچھ گجروں کے لئے، کچھ گلدستوں کے لئے،...
  17. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 21 درست نکلا۔ لیکن اس کی چند عادتوں میں تبدیلی واقع ہوئی ، فطرت یکسر نہ بدل سکی۔ اور آخر کار ثابت ہو گیا کہ شیر کا بچہ انسان کی گود میں پل جانے کے بعد انسان سے کتنا ہی مانوس کیوں نہ ہو جائے اپنی بہیمانہ خصلت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ تصورات کی دنیا میں واقعات گزشتہ کا مطالعہ کرنے لگا۔ وہ ایک...
  18. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 16 لیکن یہاں مسہری کے ریشمی زرّیں پردے ایک بُھنگے کو بھی قریب نہ پھٹکنے دیتے۔ اور اسی لئے وہ بیدار نہ ہوتی تا وقتیکہ افق مشرق کی دیوی اپنی نرم و نازک انگلیوں سے بند پپوٹوں کو گُدگدا کر غنچہء نرگس کو شگفتہ نہ کر دیتی۔ یہ ضرور ہے کہ محل میں آنے کے بعد سے اس کی طبیعت کسی قدر نفاست پسند ، آرام...
  19. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 11 دوسری سالگرہ کا جشن منانے کے سلسلے مین وہ کافی رات گزر جانے کے بعد مصروف خواب ہوئی تھی، دوسری سالگرہ اس لئے کہ محل کی چاردیواری میں آئے اس کو دو ہی سال گزرے تھےیوں اس کی عمر اٹھارہ سال تھی مگر ابتدائی سولہ برس ایک ایسی فضا میں گزرے تھےجہاں فکر معاش سے تنگ آ کر قلبِ انسانی میں خودکشی کی...
  20. گُلِ یاسمیں

    مکمل سحرِ بنگال

    صفحہ 9 دختر کفش دوز وہ ہنوز اپنے بسترِ استراحت پر دراز تھی۔ ایک نیم عریاں حالت میں۔گردن شانے تک کھلی ہوئی تھی۔ اور دونوں شانے نصف سینے تک برہنہ تھے۔ لبوں پر مسکراہٹ، آنکھوں میں برقِ تبسم۔۔۔ نرم مخملی تکیہ میں اس کے سر سے نشیب پیدا ہو گیا تھا۔ وہ کچھ سوچ رہی تھی۔شاید کوئی خواب دیکھا ہو گا۔ وہ...
Top