ہمارے دادا جان نے سیف الملوک کا بہت سا حصہ زبانی یاد کر رکھا تھا اور سنایا کرتے تھے۔ جس وقت سمجھ بھی نہیں تھی۔لیکن کان بچپن میں ہی ان الفاظ سے آشنا تھے، تب سمجھ نہیں آتی تھی کہ پڑھتے پڑھتے ان کی آواز کیوں بھرا جاتی ہے۔ اور جب سمجھ آنی شروع ہوئی تو ایک ایک لفظ دل میں اتر گیا۔اور سب سمجھ آ گئی کہ...