دعوتیں تو بہت ساری دے چکے۔۔۔ ساری محفل گواہ ہے۔
آپ ہی نے ہماری آنکھوں کو دروازے پہ ٹِکا رکھا ہے۔ نہ دعوت قبول کرتے ہیں نہ ہمارا انتظار ختم ہوتا ہے۔
سو اب ہم نے ٹھان لی ہے کہ بنا آپ کے دعوت نامے ہم کراچی سدھاریں گے۔
ہمیں تو پتا لگانے کا موقعہ جانے دیا آپ نے لیکن ہم نہیں جانے دیں گے...