کہاں چڑھا رنگ ابھی۔۔۔ وہ تو بس ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ چوکھا لانے کے چکر میں سوچا کہ آلکس پن کا بھی سواد چکھ لیں۔ ورنہ تو کہیں پڑاؤ ڈالنے والے نہیں ہم
ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
آج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاںاور شام کہاں
ایک لڑی سے دوسری لڑی۔۔۔ یہی اپنا سفر ہے آج کل۔