ریختہ صفحہ 336
میری غیرت قبول کرتی ہے نہ آنکھ چار ہوتی ہے۔ میں نے آپ کا بڑا لحاظ کیا جو رک رہا ورنہ اب میں یہاں کھڑے پانی نہ پیتا اور ایک آن نہ ٹہرتا۔ افسوس ہے اماں جان نے مجھ کو ایسا ذلیل و حقیر بے گھر بے درا سمجھ لیا کہ جو باتیں نہ کہنا چاہئیے تھیں وہ کہیں۔نہ عزیزداری کا پاس نہ قرابت کا خیال...