:nottalking::nottalking::nottalking: کل سے ہم نے آنا ہی نہیں۔
آپ لوگوں کو اچھا نہیں لگتا ہمارا محفل میں آنا۔ خبردار جو کسی نے روکنے کی کوشش کی ورنہ ہم رکنے پہ مجبور ہو جائیں گے۔ کسی کا دل نہیں توڑ سکتے نا۔
غالب کو معلوم تھا اسی لئیے پہلے ہی اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے ۔ ویسے بھی جنگل میں ایک شیر اور شاعری کی دنیا میں ایک ہی غالب جچتا ہے۔
جی محترم ارشاد کیجئیے۔۔۔
سمجھنا تو اب پڑے گا ورنہ ہمیں ٹھنڈ کیسے پڑنی ہے۔
اب تو آپ اپنے الفاظ بھی واپس نہیں لے سکتے کہ دل پہ نقش ہو گئے ہیں۔ :cry::cry::cry::cry::cry::cry::cry:
آج کوئی چپ نہ کروائے ہمیں رونے سے۔
پہلے کبھی نہیں اندازہ ہوا کہ بھابی اتنی ڈاہڈی ہیں یا کہ قصور ہی آپ اک اتنا بڑا تھا۔
ویسے ڈاہڈے لوگوں کو شادی کرنی ہی نہیں چاہئیے۔ ایویں سامنے والے معصوم کو نیلو نیل کیا ہو۔ پھر گناہ بھی تو ہوتا ہے نا۔ مجازی خدا کی تو فرمانبرادری کرنی چاہئیے نا کہ ایسا ظلم۔
جہیڑا ویکھدا اے کنّاں نوں ہتھ لاوے
ہاں کراں جے کوئی چج دا تے آوے
ست پنڈ ساک منگدے
سیما آپا آپ کو پنجابی آتی ہے نا۔۔۔ انھیں مطلب بتا دیں ورنہ انھیں ہم پوچھیں گے پھر " سمجھ آئی یا سمجھائیں"
وہ لڑی یہ ہے محترم۔۔۔
ابھی تو ایک دن ہوا ہے اور سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں اور پرائی لڑی کو اپنا جان کر وہاں مراسلہ لکھ دیا اپنی لڑی والا۔
صابرہ امین بہنا خود ہی دیکھ لیں کہ صبح سے ہم نے کیوں انھیں "ساہ " لینے کا موقع دیا ہوا تھا۔ :ROFLMAO: