دادا مرحوم کی ایک اور غزل احباب کے ذوق کی نذر:
قدم ڈگمگائے خیالات بھٹکے
تصور سے تیرے رہا دل جو ہٹ کے
بری بات جینا تھا موقف سے ہٹ کے
بُرا کیا ہوا جو سرِ دار لٹکے
مجھے منتقل کر کے شہرِ خموشاں
نہ پھر حال پوچھا کسی نے پلٹ کے
جسے وسعتِ دو جہاں بھی نہیں کچھ
مرے دل میں کیسا سمایا سمٹ کے
مرا کوئی...