کچھ تبدیلی کے ساتھ پھر حاضر ہوا ہوں۔
مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں
عشق کی راہ میں جو مرتے ہیں
یاد اس کی سمیٹ لیتی ہے
جب بھی ہم ٹوٹ کر بکھرتے ہیں
دوستوں کو فریب دے کر ہم
کیوں بھروسے کا خون کرتے ہیں
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
سچ کے ہم دُور سے گزرتے ہیں
ان کی طاعت عمل میں ہے ہی نہیں
ہم محبت کا دم ہی...