لیکن ہمارے پنجے نہ تو چوہے جیسے ہیں اور نہ خرگوش جیسے۔۔۔ پھر کیسے سرنگ بنانے کا سوچیں۔۔۔
روؤف بھائ کے پاس مشورے بھرے رہتے ہیں دماغ میں۔۔اب وہی حل نکالیں گے اس کا۔
اندازہ تو ہمارا بھی یہی ہے۔۔۔
کیونکہ ابھی ابھی تابش بھائی نے اپنے روزگار کو، اپنے دفتر کے کام کو فضول اور اس کام کو اہم بول دیا۔
نجانے غصے میں یا بہت ہی زیادہ غصے میں۔ :D
بس ایک دوسرے کو ہی شاباشی دیتے رہئیے۔۔۔ بات تو تب ہے نا جب ہم مانیں کہ چوکا چھکا لگ گیا۔
محمد تابش صدیقی بھائی۔۔۔۔ اب تک کا خلاصہ سمجھ آیا یا ہنوز وہی "ناسمجھ" میں آنے والی کیفیت ہے۔
ان میں لوہے کے پتلے والے راڈ ہوتے ہیں بھائی۔۔۔ اب ہوا میں تو خیمہ کھڑا ہونے سے رہا ۔۔۔
بس آنے بہانے ہمیں غلط ہی مشورہ دیا ہے۔
ہم تو خیمہ ہی میں رہ لیں مگر "نیناں" "صوفیہ" لوگ کہاں رہیں گے۔۔۔ انھیں تو دانہ ڈالنے خیمے سے باہر نکلنا ہو گا نا۔