یہ محض شعر و شاعری کی باتیں ہیں۔ آتش بہت مشہور شاعر تھے۔ جب انہوں نے اپنی جوانی کا کوئی واقعہ بتانا ہوتا تو فرماتے تھے کہ
جب آتش جوان تھا
تو پھر یہ کہاوت بن گئی :)
اس کا مطلب ہے کہ استاد کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے۔ یعنی کوئی بھی بندہ یہ دعوٰی نہیں کر سکتا کہ اس موضوع کے بارے اسے تمام تر حاصل ہیں۔ ویسے پیرنی صاحبہ اس کی بہتر تشریح فرما سکتی ہیں کہ میری فارسی بہت کمزور ہے