ریختہ صفحہ 155
یہ سن کر پھر پھرا، بہت سی تسلی و تشفی کر کے رخصت ہوا۔ جوگی صاحب کے مکان پر آیا۔ اس کو بھی نہایت سقیم، تیغ فرقت سے دو نیم پایا۔ خاک سے اٹھایا، مرہم وصل زخم پر لگایا۔ شہر خشخاش میں گیا، بادشاہ کے قدموں پر گرا، وزیر کے سینے سے لگا۔ سامان جشن ہوا۔ ہر مریض محبت کو اس رشک مسیح نے جان...