ریختہ صفحہ 193
قیامت نہاں گوشہ ء چشم میں
اجل کا مکاں غمزہ ء خشم میں
کیا دل نے یہ وصف بینی قبول
کہ اک شاخ میں ہیں دو نرگس کے پھول
دمک اس کے عارض میں تھی اس طرح
مطّلا ہو مصحف کو رو جس طرح
یہ نازک تھا لعل لبِ دلستاں
کہ دنداں ہوئے پشتِ لب سے عیاں
مرصع تھے زیور سے یوں اس کے گوش
پری کا ہوا بال طاؤسِ...