اور اب ہمارے سامنے ہیں ہماری پیاری سی صابرہ امین آپا۔۔۔
بزمِ مشاعرہ کا حصہ بننے پر مسرور ہیں اور سب کی شکر گزار بھی۔
چلئیے سنتے ہیں ان کا کلام استادِ محترم کی اجازت سے
جو حق کی بات کر جائے تو کہنا
نہ دنیا اس سےکترائے تو کہنا
تمہیں لگتا ہے دنیا ہے تمہاری
نہ تم پر سنگ برسائے تو کہنا
دکھا جو...
سب کو السلام علیکم کہنے کے بعد غزل پیش کر رہے ہیں۔
عرضِ احوال کی ہے تھوڑی سی
انسیت پھر بڑھی ہے تھوڑی سی
اب تسلی ہوئی ہے تھوڑی سی
بات آگے چلی ہے تھوڑی سی
پھر تری یاد کے دریچے سے
زندگی دیکھ لی ہے تھوڑی سی
ان سے کچھ عشق وشق تھوڑا ہے
یونہی دیوانگی ہے تھوڑی سی
چار پل ان کے ساتھ جینے کو
زندگی...
ہمارے پیارے دلارے بھائی عبد الروؤف ۔۔۔ ما شاء اللہ
یکلخت غیر دیکھتا ہوں بام و در کو میں
پاتا ہوں اجنبی سا ترے بعد گھر کو میں
اک سلسلہ سا چل رہا ہے عمر بھر سے یوں
وہ آزمائے مجھ کو اور اپنے جگر کو میں
تیرِ نظر ہی دشمنِ جاں کا اگر ہو پار
پھر کیا اٹھاؤں منتِ تیغ و سپر کو میں
بھولے سے اس کا نامہ...
تاکید یہ بھی کی کہ میں لکھتا رہوں خطوط
بھولوں نہ میں اسے یہ سزا دے گیا مجھے
یہ ہے وہ پہلی آواز جو سنائی دی۔۔۔ اس سے پہلے کے اشعار انھی سے لیں گے یعنی مقبول صاحب سے
مقبول کر گیا ہے عطا آگ ہجر کی
مانگا تھا میں نے کیا وہ ہے کیا دے گیا مجھے
(تدوین کے بعد مکمل غزلیں پیشِ خدمت ہیں )
کہتے ہیں لوگ، آ...
بالاخرانتظار کی گھڑیاں ختم ہو ہی گئیں۔
اور پورے منٹ لیٹ ہونے کے بعد مشاعرہ شروع ہونے جا رہا ہے۔
ا س تاخیر کی وجہ تو بعد میں جانیں گے اس وقت تو سارا دھیان ہے اس طرف
آن لائن عالمی محفل مشاعرہ
اردو محفل کی سترھویں سالگرہ کے موقع پر
20اگست 2022
کچھ ہم میں پرکھنے کا سلیقہ بھی نہیں تھا
ظالم تو وہ تھا مگر اتنا بھی نہیں تھا
بے بس تھا تو دعوے نہ وہ باندھتااتنے
اب اس پہ مصر ہے کہ وہ دھوکا بھی نہیں تھا
پرکھنا مت، پرکھنے سے کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا
بڑے لوگوں سے ملنے میں، ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا، دریا نہیں رہتا
ہزار مجھ سے پیمان وصل کرتا رہا
پر اس کے طور طریقے مُکرنے والے تھے
تمھیں تو فخر تھا شیرازہ ءبندی جاں پر
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے
( جمال احسانی)