انتہائی چشم کشا۔ ایک طرف تو اس قاتل کو یہ ٹھیک طرح سے یاد نہیں لیکن مارچ تھا یا اپریل، 2012، دوسری جانب اسے ہر واردات کی ایف آئی آر کے اندراج کی تاریخ اور اس کا نمبر اور یہ بھی کہاں درج ہوئی تھی، بھی یاد ہے :) یار کیسی رپورٹنگ ہے :)
میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ ہر سیاسی اور ہر مذہبی پارٹی میں کچھ جرائم پیشہ عناصر موجود ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ جب وہ قانون کی گرفت میں آئیں تو ان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا جائے۔ ایم کیو ایم واحد جماعت ہے جو انہیں بے گناہ تسلیم کرانے پر تُل جاتی ہے۔ باقی یہ بات تو ایک عام فہم...